الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 242

الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 138

ضميمه حقيقة الوحي ۱۳۸ الاستفتاء اور تمہاری آنکھیں اندھی ہوگئی ہیں۔ پس وہ وعميت عينكم فلا ترى فتن الأعداء ، وتسمونني دجالا ولا دشمنوں کے فتنوں کو نہیں دیکھتیں۔ اور تم میرا نام دجال رکھتے ہو اور تم بصیرت سے کام نہیں لیتے۔ تبصرون۔ وتفتون بأنى كافر بل تم فتوی دیتے ہو کہ میں کافر بلکہ ہر اس شخص سے أكفر من كلّ من كفر بالأنبياء۔ بڑا کافر ہوں جس نے انبیاء کا انکار کیا۔ فمرحبا بكم بهذا الإفتاء۔ واہ رے تمہارا یہ فتوی ! سب سے تعجب خیز امر والعجب كـل الـعـجب أن الذین ہے کہ اہل صلیب اور مشرک جو دین کی بیخ کنی کرنا يريدون أن يجيحوا الدين من أهل چاہتے ہیں وہ تمہارے نزدیک تو دجال نہیں اور الصلبان والمشرکین لیسوا عند کم میں دجال ہوں بلکہ سب سے بڑا مفسد ہوں۔ پس دجالين، وأنا دجال بل أكبر صرف اللہ رب العالمین کی جناب میں فریاد المفسدين! فلا نشكو إلا إلى الله ام مصر ٥٦ رب العالمين۔ ولما صرت عندكم کرتے ہیں۔ اور پھر جب میں تمہارے نزدیک کا فر ٹھہرا تو پھر یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ کافروں كافرًا۔۔ كيف يُرجى أن ينفعكم موعظة من الكفار ؟ ولكنى أردت أن كي نصیحت تمہیں فائدہ دے۔ لیکن میں نے چاہا کہ أذكر ما أُوذيت فی الله فلذالک اللہ کی راہ میں دی گئی ایذا کا ذکر کروں لہذا ہمارا یہ أفضى بنا الكلام إلى هذه الأذكار۔ سلسلۂ کلام ان اذکار کی طرف چل نکلا۔ رحمكم الله۔۔ ما لكم لا اللہ تم پر رحم کرے ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ظلم اور تتركون ظُلمًا وعدوانا، ولا زیادتی ترک نہیں کرتے ۔ اور نہ ہی تم علیم ، جزا سزا تخافون عليما ديانا ؟ أيُّها كے مالک خدا سے ڈرتے ہو۔ اے لوگو! ہم اللہ کی الناس ۔۔ جئنا من الله علی میقاته، جانب سے اس کے مقرر کردہ وقت پر آئے ہیں اور ونطقنا بإنطاقه، نبلغ إليكم اس کے بلانے سے ہم بولتے ہیں۔ ہم تمہیں پیغام الدعوة ، وتنالنا عنكم اللعنة حق پہنچاتے ہیں لیکن تمہاری طرف سے ہمیں فما أدرى ما هذه الدناءة؟ لعنت ملتی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ کیا کمینگی ہے