الاستفتاء (ضمیمہ حقیقة الوحی) — Page 135
ضميمه حقيقة الوحي الله الاستفتاء وإن كنتم في شك من أمرى اور اگر تمہیں میرے معاملہ میں شک ہو تو صبر سے کام لو فاصبروا حتى يحكم الله بيننا حتی کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ فرمادے مادے اور وہی فیصلہ کرنے والوں میں سے سب سے بہتر فیصلہ وهو خير الحاكمين۔ ألم يكفكم کرنے والا ہے۔ کیا تمہارے لئے یہ کافی نہیں کہ أنه جعل لنا فرقانا بعد ما باهل دشمنوں سے مباہلہ ہونے کے بعد اللہ نے ہمیں فرقان العدا، وقالوا إن لنا الغلبة من عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے ہمیں غلبہ الحضرة ، فأهلك الله من حاصل ہوگا لیکن اللہ نے دلیل سے ہلاک ہونے هلك عن البيئة، ومكرتم و مکر والے کو ہلاک کر دیا۔ اور تم نے بھی منصوبہ باندھا الله، والله خير الماكرين۔ وترون اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ تمام تدبیر کرنے والوں كيف تخيم الأعداء حولكم میں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ دشمن تمہارے گرد کس طرح خیمہ زن ہیں اور تم پر کس وكيف نزل عـلـيـكـم البــلاء ، طرح مصیبت نازل ہو رہی ہے اور تم اپنی کمزوری وتذللتم لهم من ضعف أنفسكم کے باعث ان کے سامنے ذلت سے سرنگوں ہو اور وجذبتـكـم إليهم الأهواء، وقد نفسانی خواہشات نے تمہیں ان کی طرف کھینچا ہے نحتوا حيلا حيرت البصائر اور انہوں نے ایسے ایسے حیلے تراشے ہیں جو بصارت والأبصار۔ اور بصیرت کو محو حیرت کر دیتے ہیں ۔ فما لكم لا ترون إعصارًا أجاحت کیا وجہ ہے کہ تم اس بگولے کو دیکھ نہیں پاتے ۵۵﴾ الأشجار؟ إنهم قوم يريدون لكم جس نے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا ہے۔ وہ ایسی قوم ہیں جو تمہیں مرتد اور گمراہ کرنا چاہتے ہیں ارتدادا وضلالا، ولا يألونكم اور تم سے برائی کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتے۔ خبــالا ۔ وقد غلبوا أهل الأرض وہ اہل زمین پر غالب آچکے ہیں اور انہوں نے وجـعـلـوهـم كالغلمان والإماء ، انہیں غلاموں اور لونڈیوں کی طرح بنالیا ہے۔