القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 10

۱۰ ترى آيَاتِ صِدْقِى ثُمَّ تَنْسى لَحَاكَ اللَّهُ مَالَكَ لَا تُبَالِي تو میری سچائی کے نشان دیکھتا ہے۔ پھر بھول جاتا ہے۔ خدا تیرا برا کرے۔ کیا بات ہے کہ تو پرواہ نہیں کرتا۔ تَعَالَ إِلَى الْهُدى ذُلَّا خُضُوعًا إِلَى مَا تَكْتَسِي ثَوْبَ الدَّلَالِ فروتنی اور خاکساری سے ہدایت کی طرف آ ۔ کب تک تو غرور کا لباس پہنے رکھے گا۔ وَ إِنْ نَاضَلتَنِي فَتَرَى سِهَامِی وَ مِثْلِى لَا يَفِرُّ مِنَ النِّضَالِ اگر تو تیراندازی میں میرا مقابلہ کرے تو میرے تیروں کا تجھے پتہ لگ جائیگا اور میرے جیسا آدمی تیراندازی کے مقابلہ میں بھاگا نہیں کرتا۔ سِهَامِي لَا تَطِيشُ بِوَقْتِ حَرْبٍ وَسَيْفِى لَا يُغَادِرُ فِي الْقِتَالِ لڑائی کے وقت میرے تیر خطا نہیں جاتے اور میری تلوار لڑائی میں (کسی کو) نہیں چھوڑتی ۔ فَإِنْ قَاتَلْتَنِي فَارِيكَ أَنِّي مُقِيمٌ فِي مَيَادِينِ الْقِتَالِ اور اگر تو مجھ سے جنگ کرے تو میں تجھے دکھا دوں گا کہ بے شک میں لڑائی کے میدانوں میں ثابت قدم ہوں ۔ أبا لاِيْذَاءِ اَتُرُكُ أَمْرَ رَبِّي وَمِثْلِى حِينَ يُؤْذِى لَا يُبَالِي کیا دکھ دیئے جانے سے میں اپنے رب کے کام کو چھوڑ دوں؟ جبکہ میرے جیسا آدمی ایذاء دیئے جانے پر پرواہ نہیں کیا کرتا۔ وَ كَيْفَ أَخَافُ تَهْدِيدَ الْخُنَاثَى وَقَدْ أُعْطِيتُ حَالَاتِ الرِّجَالِ میں مختوں کی دھمکی سے کیسے ڈر سکتا ہوں جبکہ مجھے مردوں کے حالات مردانگی دئے گئے ہیں۔ أَلَا إِنِّي أُقَاوِمُ كُلَّ سَهُم وَ اَقْلِي الْإِكْتِنَانَ عَنِ النِّبَالِ آگاہ رہو کہ میں ہر تیر کا سامنا کروں گا اور میں تیروں کے خوف سے مورچہ بند ہونے کو پسند نہیں کرتا۔ فَإِنْ حَربًا فَحَرْبٌ مِثْلَ نَارٍ وَإِنْ سِلْمٌ فَسِلْمٌ كَالزُّلَالِ اگر جنگ چاہو تو ( ادھر سے ) جنگ ہو گی آگ کی طرح ۔ اور اگر صلح چاہو تو (ادھر سے ) صلح ہو گی آب شیریں کی طرح۔