القصائد الاحمدیہ — Page 123
۱۲۳ وَمَا كَانَ الرَّحِيمُ مُذِلَّ قَوْمٍ وَلَكِنْ بَعْدَ ظُلْمٍ وَافْتِنَانِ اور خدائے رحیم کسی قوم کو ذلیل نہیں کرتا مگر اس وقت جبکہ ظلم اور فتنہ اندازی اختیار کرے۔ وَ هَلْ حُدِّثْتَ مِنْ أَنْبَاءِ أُمَمٍ رأو قُبُحًا بِأَفْعَالٍ حِسَانِ کیا ایسی قوموں کی تجھے کچھ خبر ہے جن کو نیکی کرتے کرتے بدی پیش آئے؟ وَكُلُّ النُّورِ فِي الْقُرْآنِ لَكِن يَمِيلُ الْهَالِكُونَ إِلَى الدُّخَانِ اور تمام اور ہر یک قسم کے نور قرآن ہی میں ہیں مگر مرنے والے دھوئیں کی طرف دوڑتے ہیں۔ بِهِ نِلْنَا تُرَاثَ الْكَامِلِينَا بِهِ سِرْنَا إِلَى أَقْصَى الْمَعَانِي ہم نے اس کے وسیلہ سے کاملوں کی وراثت پائی ہم نے اس کے وسیلہ سے حقیقتوں کے اخیر تک سیر کیا۔ فَقُمْ وَاطْلُبُ مَعَارِفَهُ بِجُهْدٍ وَخَفْ شَرَّ الْعَوَاقِبِ وَالْهَوَانِ پس اٹھ اور کوشش کے ساتھ اس کے معارف طلب کر اور انجام بداور ذلت کی بدیوں سے خوف کر ۔ أَتَخْطُبُ عِزَّةَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةُ أَتَطْلُبُ عَيْشَهَا وَالْعَيْشُ فَانِي کیا تو اس دنیا نا کارہ کی عزتوں کا طالب ہے کیا تو اس دنیا کے عیشوں کو ڈھونڈتا ہے اور اس کے تمام عیش فانی ہیں ۔ ا تَرْضَى يَا أُخِي بِالْخَانِ حُمْقًا وَتَنْسى وَقتَ تَبْدِيلِ الْمَكَانِ اے بھائی! کیا تو سرائے میں رہنے میں اپنے حق سے راضی ہو گیا اور اس وقت کو بھلا دیا جو تبدیل مکانی کا وقت ہے۔ عَلى بُسْتَانِ هَذَا الدَّهْرِ فَأْسٌ فَكَمْ شَجَرٍ يُجَاحُ مِنَ الْإِهَانِ اس دنیا کے باغ پر تبر رکھا ہے سو بہت سے درخت جڑھ سے اکھیڑے جارہے ہیں۔ وَ كَمْ عُنُقٍ تُكَبِّرُهَا الْمَنَايَا وَكَمْ كَفِ وَكَمْ حُسُنِ الْبَنَانِ اور موتیں بہت سی گردنوں کو توڑ رہی ہیں اور بہت ہتھیلیاں اور بہت سے خوبصورت پوریں ٹوٹی چلی جاتی ہیں۔ تَرى فِي سَاعَةٍ سُرُرًا لِرَجُلٍ وَفِي الْأُخْرَى تَرَاهُ عَلَى الْأَرَانِ اور تو یہ تماشا دیکھ رہا ہے کہ ایک گھڑی ایک مرد کے لئے کئی تخت بچھے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر دوسری گھڑی میں وہی مرد تابوت مردہ پر پڑا ہوا ہوتا ہے۔