اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 32
الهدى و التبصرة لمن يرى ۳۲ اردو ترجمہ العادل تعبير أعلى وأرفع وأعم لوگوں کے حق میں خیر و برکت اور بہت وأنفع۔ وهي للناس كلهم خير و ہی درست اور صاف ہے ۔ مگر عامی کی مع ذالك أصح و ألمع۔ وأما رؤيا رويا اكثر صورتوں میں آمیزش اور رجل هو من أدنى الناس۔ فلا میل کچیل سے پاک نہیں ہوتی ۔ اس يتخلّص في أكثر صورها من کے علا وہ اس کا اثر بیٹوں اور باپوں الالتباس، بل من الأدناس ۔ ثم مع یا تھوڑے سے دوستوں سے آ گے نہیں ذالك لا تجاوز أثرها من الأبناء جاتا ۔ اور اگر اغیار سوار بھی ہوں تو والآباء۔ أو شرذمة من الأحبّاء۔ وإن بھی بہت ہی نزدیک جگہ میں ڈیرے ركب هؤلاء الأغيار۔ ينيخون ڈال دیتے ہیں اور پالانوں سے اتر کر بأدنى الأرض مطايا التسيار۔ و آشیانوں میں گھس جاتے ہیں ۔ مگر قرآن ينتقلون من الأكوار إلى الأوكار۔ کریم کے سواروں کا یہ حال ہے کہ وہ آبادی وأما خيل الفرقان فيجوبون كل کے ہر دائرہ کو قطع کرتے ہیں ۔ قرآن کریم دائرة العمران۔ وهو كتاب ایک کتاب ہے جس کے نیچے عرفان کے دریا ۳۵ تجرى تحته بحار العرفان۔ ولا بہتے ہیں ۔ اور کسی گویائی کا پرندہ اس سے فوق يطير فوقه طير التبيان۔ و ما تكلّم اُڑ نہیں سکتا۔ اور ہر پونجی والا اسی کے خزانوں أحد إلا ادان من خزائنه۔ وأخرج من بعض دفائنه۔ وأرى اور دفینوں سے کچھ لیتا ہے اور میرے نزدیک كل متكلم صفر اليدين۔ من غير ہر متکلم اس قرضہ میں مبتلا ہونے کے بغیر محض تہی التطوّق بهذا الدين۔ وكل غريم دست ہے ۔ اور قرضدار سے سخت تقاضا کیا جاتا اور سخت کوشش کی جاتی ہے کہ قاضی تک پہنچا کر يجد في التقاضي۔ ويلج في الاقتياد إلى القاضي۔ وأما القرآن اس سے روپیہ وصول کیا جائے ۔ مگر قرآن کریم فيتصدق على أهل الاملاق۔ تنگ دستوں کو صدقات دیتا اور ساری تنگیاں وينزع عن الارهاق۔ بل يُعطى دور کرتا بلکہ اخلاص والوں کو سونے کی ڈلیاں