اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page iii
بالله الحالي نحمده و نصلى على رسوله الكريم و على عبده المسيح الموعود پیش لفظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب الهدی و التبصرة لمن يرى“ کی تالیف کا باعث ” الشیخ محمد رشید رضا مدیر المنار ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب اعجاز المسيح “ تحریر فرمائی تو مصر کے بعض علماء اور مدیران جرائد ومجلات کو اس کے چند نسخ ارسال فرمائے ۔ مناظر اور الهلال کے مدیران نے تو اس کی فصاحت و بلاغت کی بہت تعریف کی مگر الشیخ محمد رشید رضا نے تحقیق کے بغیر ہی لکھ دیا کہ کتاب سہو و خطا سے بھر پور ہے، اس کی سمع میں بناوٹ سے کام لیا گیا ہے اور لطیف کلام نہیں اور عرب کے محاورات کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ۔ مزید اس نے یہ لاف زنی کی ان كثيرًا من اهل العلم يستطيعون ان يكتبوا خيرًا منه في سبعة ايام “ (المنار جلد ۴ صفحہ۶۶۴) یعنی بہت سے اہل علم اس سے بہتر سات دن میں لکھ سکتے ہیں۔ جب اس کا ریو یو ہندوستان میں شائع ہوا تو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف از سر نو مخالفت کا ایک طوفان برپا کر دیا۔ تب آپ نے احقاق حق اور ابطال باطل اور اتمام حجت کے لئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی چاہی تو آپ کے دل میں یہ ڈالا گیا کہ آپ اس مقصد کے لئے ایک کتاب تالیف فرمائیں اور پھر مدیر المنار اور ہر اس شخص سے جو ان شہروں سے مخالفت کے لئے اٹھے اس کی مثل طلب کریں۔ چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت تضرع اور خشوع و خضوع سے دعا کی، یہاں تک کہ قبولیت دعا کے آثار ظاہر ہوئے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔