اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 187
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۸۷ اردو ترجمہ فحاصل الكلام إنه لا شك حاصل کلام یہ کہ اس میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ ۱۱۵ ولا شبهة ولا ريب أن عيسى لما نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے از راه احسان عیسی من الله عليه بتخليصه (علیه السلام ) کو صلیب کی مصیبت سے نجات بخشی من بلية الصليب هاجر مع تو آپ نے مع اپنی والدہ محترمہ اور اپنے بعض أمه وبعض صحابته إلى صحابیوں کے کشمیر اور اس کی بلندیوں کی طرف جو كشميرو ربوته التي كانت ذات دل کو قرار بخشنے والی اور چشموں والی سرزمین اور ہر قرار ومعين ومجمع الأعاجيب قسم کے عجائبات کا مجموعہ تھی ہجرت فرمائی اور اسی وإليه أشار ربنا نـاصـر النبيين طرف ہمارے پرورگار نے جو تمام نبیوں کا مددگار ومعين المستضعفين في قوله : اور کمزوروں کی مدد کرنے والا ہے اپنے اس قول : وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّةَ أَيَةً وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّةَ أَيَةً و أَوَيْنُهُمَا إِلَى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ أَوَيْنُهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ ولا شك أن الإيواء لا وَ مَحِينِ لے میں اشارہ فرمایا ہے۔ اور اس میں يكون الا بعد مصيبة۔ وتعب کوئی شک نہیں کہ مصیبت اور تکلیف و اضطراب وكربة۔ ولا يُستعمل هذا اللفظ کے بعد ہی ایو آء ( پناہ دینا ) ہوتا ہے اور یہ الا بهذا المعنى۔ وهذا هو الحق لفظ صرف انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور من غير شك و شُبهة ولا یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر بالکل سچ ہے۔ اور يتحقق هذه الحالة المُقلقلة في مسیح (علیه السلام) کے سوانح میں یہ قلق پیدا الحاشيه اعلم ان لفظ الايواء باحد من مشتقاته قدجاء في كثير من مواضع القرآن۔ ترجمہ ۔ جان لے کسی کے لئے لفظ ایواء کا استعمال اپنے مشتقات میں قرآن میں کئی جگہ استعمال ہوا وكلها ذكر فى محل العصم من البلاء بطريق الامتنان۔ كما قال الله تعالى ہے۔ اور ہر جگہ اُس کا ذکر از راہ امتنان کسی بلاء سے محفوظ رہنے کے موقع پر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ لے اور ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ہم نے ان دونوں کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی جو ٹھہر نے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی ۔ ( المؤمنون: ۵۱)