اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 181

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۸۱ اردو ترجمہ سأل المشركون سیدنا صلی الله پر غور کرو۔ اور تم اپنے رب کو ویسے اذیت نہ پہنچاؤ عليه وسلم أن يرقى في السماء جس طرح تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ إن كان صادقا مقبولا ۔ فقيل مشرکوں نے ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ سچے اور مقبول إِلَّا بَشَرً ا رَّسُولًا فما ظنك أليس بارگاہ الہی ) ہیں تو آسمان پر چڑھ کر دکھا ئیں ۔ ابن مريم بشرا کمثل خیر تو کہا گیا کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں المرسلين؟ أو تفترى على الله کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا وتقدمه على أفضل النبيين؟ ألا بَشَرً ا رَّسُولاً ! تمہارا کیا خیال ہے کیا ابن مریم إنه ما صعد إلى السماء۔ ألا ان سید المرسلین کی طرح بشر نہ تھے؟ یا پھر تم اللہ پر افترا لعنة الله على الكاذبين۔ وشهد کرتے ہو اور اس مسیح کو افضل النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر الله أنه قد مات ومن أصدق مقدم کرتے ہو؟ سنو عیسی آسمان پر نہیں چڑھے۔ اور یاد الله رب العالمين؟ ألا رکھو کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ تفكر في قوله عز اسمه شہادت دی ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور اللہ رب العالمین وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ سے بڑھ کر کون سچا ہے؟ کیا تم اللہ عز اسمہ کے قول: مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أو على قلبك وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ القفل؟ وقد انعقد الإجماع عليه الرُّسُلُ ۔ پر غور نہیں کرتے یا تمہارے دل پر قفل قبل كل إجماع من الصحابة۔ پڑا ہے۔ صحابہ کا کسی بھی اجماع سے پہلے اس پر اجماع ورجع الفاروق من قوله بعد ہوا۔ اور اسی آیت کے سننے کے بعد حضرت عمر فاروق سماع هذه الآية۔ فما لك لا نے اپنے قول سے رجوع فرمایا۔ پھر تجھے کیا ہے کہ تو ترجع من قولك وقد قرأنا اپنے قول سے رجوع نہیں کرتا۔ حالانکہ ہم نے عليك كثيرا من الآيات؟ تیرے سامنے بہت سی آیات پیش کی ہیں۔ من لے تو کہہ دے کہ میرا رب ( ان باتوں سے ) پاک ہے ( اور ) میں تو ایک بشر رسول کے سوا کچھ نہیں (الاسراء: ۹۴) ے اور محمد نہیں ہے مگر ایک رسول ۔ یقیناً اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ (ال عمران: ۱۴۵)