اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 178 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 178

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۷۸ اردو ترجمہ الرشد والدهاء۔ أتظن أن الله تم خیال کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس روحانی ترك بيان رفع الروح الذي يُنجى رفع کے بیان کو ترک کیا ہے جس نے عیسیٰ کو اس عيسى مما أُفتى عليه في الشريعة فتوے سے نجات دلائی ہے جو شریعت موسوی میں الموسوية ۔ وتصدى لذکر رفع ان کے خلاف تھا۔ اور اس (اللہ ) نے جسمانی رفع الجسم الذي لا يتعلق بأمر كا ذکر شروع کر دیا جس کا اس معاملہ کے ساتھ کوئی يستلزم اللعنة عند هذه الفرقة؟ تعلق نہیں جو اس فرقے کے نزدیک لعنت کو لازم بل امر لغو اشتهر بين زمـع کر دیتا ہے۔ بلکہ یہ ایک لغو امر ہے جو کمینے النصارى والعامة۔ وليس تحته عیسائیوں اور عامۃ الناس میں پھیل گیا ہے اور جس شيء من الحقيقة۔ وما حمل کے اندر کوئی حقیقت نہیں۔ اور عیسائیوں کو یہودیوں النصارى على ذالك الا طعن کی بالاصرار طعن نے ہی اس پر ابھارا۔ نیز ان کے اليهود بالإصرار ۔ وقولهم ان اس قول نے کہ عیسیٰ“ اس وجہ سے ملعون ہے کہ وہ عیسی ملعون بما صُلب شریروں (بدکاروں ) کی طرح صلیب دیا گیا اور كالأشرار۔ والمصلوب ملعون تورات کے حکم کے مطابق مصلوب ملعون ہوتا بحكم التوراة وليس ههنا سعة ہے۔ یہاں کوئی فرار کی گنجائش نہیں رہتی ۔ اس طعن الفرار فضاقت الأرض بهذا کی وجہ سے عیسائیوں پر زمین تنگ ہو گئی اور وہ الطعن على النصارى وصاروا یہودیوں کے ہاتھوں میں قیدیوں جیسے ہو گئے۔ تو في أيدى اليهود كالأساری انہوں نے عیسی (علیہ السلام) کے آسمان پر فنحتوا من عند أنفسهم حيلة چڑھنے کا حیلہ اپنی طرف سے تراش لیا تا کہ وہ اس صعود عيسى إلى السماء۔ لعلهم افترا کے ذریعہ انہیں لعنت سے پاک قرار دیں۔ يطهروه من اللعنة بهذا الافتراء اور اس مشہور حادثہ سے جو خواص و عام میں شہرت پا وما كان مفر من تلك الحادثة گيا کوئی راہ فرار نہ تھی۔ صلیب دیا جانا تمام یہودی الشهيرة التي اشتهرت بين فرقوں اور ان کے بڑے بڑے علماء کے نزدیک