اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 8

الهدى و التبصرة لمن يرى A اردو ترجمہ وما انتفع بمعرفة من معارفه کے عظیم الشان معارف میں سے کسی معرفت العظام۔ ومال إلى الكلم والإيذاء سے بھی نفع حاصل نہ کیا اور جیسے کہ اکڑ باز بالأقلام۔ كما هو عادة الحاسدين حاسدوں کی عادت ہوا کرتی ہے قلم سے زخمی والمستكبرين من الأنام۔ وطفق کرنے اور ایذا دینے کی طرف جھک پڑا اور تحقیر يؤذى ويُزری غیر وان فی کرنے لگا اور ایذا دینے لگا اور اس تحقیر اور جوش الازراء والالتطام ولا لا و إلى دکھلانے میں ذرا بھی کوتاہی نہ کی اور جیسے کہ الكرم والإكرام۔ كما هو سيرة بزرگوں كى عادت ہے کرم واکرام کی طرف رخ الكرام۔ وعمد إلى أن يُؤلمنی نہ کیا اور قصد کیا کہ عوام کی نگاہ میں مجھے رنج ويـفـضـحـنــي فــي أعين العوام پہنچائے اور بد نام کرے ۔ پس وہ بلند منار سے كالأنعام فسقط من المنار گرا اور اپنے آپ کو دکھوں میں ڈالا ۔ اور مجھے المنيع وألقى وجودہ فی الآلام سنگریزوں کی طرح پاؤں کے نیچے روندا اور ووطئني كالحصى۔ واستوقد نار فتنوں کی آگ کو بجھ جانے کے بعد پھر بھڑ کا یا الفتن وحضى۔ وقال ما قال وما اور کہا جو کہا اور دانشمندوں کی طرح غور نہیں أمعن كأولى النهى۔ وأخلد إلی کی ۔ اور زمین کی طرف جھک پڑا اور متقیوں الأرض وما استشرف كأھل کی طرح اوپر کو نہ چڑھا اور اونچا ہونے کے التقى ۔ وخر بعد ما علا وإن بعد گرا۔ اور گرنا تو خود بڑی خوفناک بات الخرور شيء عظيم۔ فما بال ہے۔ پھر اس شخص کا کیا حال جو منار سے الذي من المنار هوای۔ واشتری گرا۔ اور گمراہی کو خریدا اور ہدایت نہ پائی ۔ الضلالة وما اهتدى ۔ أم له في آيا فصاحت و بلاغت میں اسے بڑا کمال حاصل البراعة يد طولی؟ سيهزم ہے ؟ عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر نظر نہ فلا يرى نبأ من الله الذى يعلم آئے گا ۔ یہ پیشگوئی ہے خدا کی طرف سے جو السر وأخفى۔ إنه مع قوم يتقونه نہاں در نہاں کو جاننے والا ہے ۔ وہ متقیوں اور