الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 278
۲۷۹ پر نازل ہوئی۔ہاں تائیدی طور پیم وہ حدیثیں بھی <mark>نہی</mark>ں کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض <mark>نہی</mark>ں اور دوسری صدیوں کو ہم روسی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔د اعجاز احمدی ۳ و ۳۱ وصل ۲ و تحفہ گولڑو یہ مت راقت <mark>محمد</mark>یہ میں جو شخص خدا تعالے کی طرف سے اصلاح خلق کے الجواب است تمدید یا اس کے دعوی کی بنیاد قرآن مجید اور اپنی وحی ہیں ہونی چاہیئے۔اور اپنے دعوی کے متعلق وہ ا<mark>نہی</mark>ں حدیثوں کو قبول کر لکھتا ہے جو قرآن مجید کی وحی کے مطابق اس کے دھوئی کی مؤید ہوں اور جو حدیثیں قرآن دوھی کی موتیا نہ ہوں بلکہ مخالف ہوں ا<mark>نہی</mark>ں وہ احادیث صحیحہ نبویہ قرابه <mark>نہی</mark>ں دے سکتا۔ا<mark>نہی</mark>ں وہ مردود ہی قرار دے سکتا ہے۔احادیث کا علم ظنی ہے جیسا کہ اصول حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے حدیث دلیل سے یقین کا مرتبہ حاصل کرتی ہے۔چنانچہ حدیث کی بہت سی اقسام ہیں۔حدیث کی ایک تقسیم مقبول اور مردود بھی کی گئی ہے۔اس تقسیم سے احادیث نبویہ کی تو ہیں <mark>نہی</mark>ں ہوتی۔بلکہ جو عدشیں مردود قرار پاتی ہیں وہ آنحضرت مسلے اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہی <mark>نہی</mark>ں کبھی جدا ہیں موضوع احادیث کا یہی حال ہے جو ہزاروں کی تعداد میں مذکور ہوتیں۔لہذا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اس قول میں احادیث صحیحہ نبویہ کی کوئی تو ہیں <mark>نہی</mark>ں کی گئی۔توہین کا الزام مفتی صاحب کا بستان اور افتراء ہے حضور خود اعجاز احمدی مت پر تحریر فرماتے ہیں :-