الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 16
مفتی <mark>صاحب</mark> خاتم النبيين کے معنے تو مسیح کا نزول جو حدیشیوں میں مذکور ہے اس سے یہی مراد ہو سکتا ہے کہ مطلق <mark>آخری</mark> <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> قرار نہیں دے سکتے حضرت عیسی علیہ السلام کا کوئی مشیل حسب حدیث اما مكم منکور امت محمدیہ میں سے پیدا ہو اور امتی نبوت کا امت مقام حاصل کرے۔مگر مفتی <mark>صاحب</mark> چور کو حضرت علی علیہ السلام کے انصافاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد <mark>آنے</mark> کے قائل ہیں۔امندا وہ خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے معنے آیت زیر بحث میں مطلق <mark>آخری</mark> <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> مراد نہیں لے سکتے۔کیو نکہ یعنی مسیح موعود کے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد ظہور میں مانع ہیں۔خواہ وہ مسیح موعود امت سے پیدا ہونے والا ہو یا بقول مفتی <mark>صاحب</mark> خود حضرت عیسی علیہ السلام صالنا مراد ہوں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ہے موعود کو احادیث نبویہ میں <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> اللہ کا نام دیا ہے میں قبل ازیں بیان کر چکا ہوں کہ سیاق آیت میں مطلق <mark>آخری</mark> <mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> کا مفہوم کوئی چوٹے اور علاقہ نہیں رکے اور علاقہ نہیں رکھتا، کیونکہ مطلق سمرینی کے معنی منفی مفہوم پر مشتمل ہیں۔اور آیت کا تقاضا بلحاظ سیان کلام ایک ) مثبت مفہوم کا ہے سو جیسے رسول اللہ کے الفاظ ایک مثبت مفہوم رکھتے ہیں ایسے ہی خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین کے الفاظ ایک مثبت محموم مشتمل ہیں۔جہاں جب کوئی چیز ثابت اور متحقق ہو تو وہ چونکہ اپنے سارے لوازم کے ساتھ ہوتی ہے۔لہذا خاتم ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark> تین کے مثبت معنی کو جو آگے تفصیل سے بیان کئے جائیں گے۔افضل ال<mark><mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark></mark>ین ہوتا میں لازم ہے۔بوراز نمور اخری شایع