الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 219
اب اگر مفتی صاحب یہ تاویل کریں کہ حضرت یلئے علیہ السلام جو پرانے نی میں <mark>مستقل</mark> بنی کی حیثیت میں نہیں آئیں گے بلکہ وہ بنی ہونے کے ساتھ آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے انتی بھی ہوں گے تو اس طرح انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کی بحیثیت آنحضرت مسلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے اتنی کی آمد نہ آیت خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے مناتی ہے اور نہ حدیث لا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> <mark>بعد</mark>ی کے خلاف ہے۔اور لائیتی <mark>بعد</mark> می میں نقی عام تشریعی یا ستقل بنی کے لحاظ سے ہے۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ ایک امتی بھی اس طرح مقامم <mark>نبوت</mark> پاسکتا ہے۔کہ وہ ایک پہلو سے امتی ہو اور ایک پہلو سے بھی بھی۔گو اس جگہ اس بحث کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ حضرت علی علیہ اسلام جو <mark>مستقل</mark> بھی ہیں آنحضرت صلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے کامل اتنی کیسے بن سکتے ہیں جبکہ مفتی صاحب کے ریویو پر مباحثہ کے حوالہ اور <mark>ازالہ</mark> او نام کی عبارت میں آنتی کا مفہومہ بنی کے معصوم سے متناقض اور مقیائی قرار دیا گیا ہے اور مفتی صاحب ان عبارتوں کو بھی <mark>اسلامی</mark> نظریہ اور مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ قرار دے چکے ہیں۔یہ ہر دو عبارتیں مفتی صاحیے پہلا دوڑ کے عنوان کے ماتحت اپنی کتاب کے وکلا پر یوں درج کی ہیں۔(1) یہ دونوں حقیقتیں ر<mark>نبوت</mark> اور امنیت - ناقل متنا محض ہیں۔ریویو به مباحثه مش (۲) رسول اور راستی کا مفہوم مشہائن ہے (<mark>ازالہ</mark> اوہام علی کے حوالہ مباحثہ راولپنڈی جنگل