الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 208 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 208

آپ مسیح موعود کے تین کاموں کے ذکر میں تحریر فرماتے ہیں:۔ہ حقیقت میں ابتدا سے یہی مقرر ہے کہ مسیح اپنے وقت کا مجتہد ہوگا اور اعلی درجہ کی تجدید کی خدمت خدا تعالے اس سے لے گا اور تینوں امور وہ ہیں تو خدا تھا لے نے ارادہ فرمایا ہے جو اس علاج کے ذریعہ سے ظہور میں آئیں۔سو وہ اپنے ارادہ کو پورا کریگا۔اور اپنے بندہ کا مددگار ہوگا زانا لهاد عام حصہ اول مشت ادی ہونے کا دعوئی ہو جب حدیث لا مهدی الا عیسی بھی ازالہ اورام مسیح در شخص ظاہر ہوں میں موجود ہے۔آپ کا یہ مذہب <mark>نہی</mark>ں کہ دی۔آپ تحریر فرماتے ہیں:- یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم شان کا آدمی مکہ میں کو باعتبار باطنی رنگ اور معاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا چاہیے دنیا میں ظہور کرے اور بعد اس کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کا آنا بھی ہو رہی ہو۔کیا وہ خود ماری <mark>نہی</mark>ں۔کیا وہ خدا تعالے کی طرف سے ہدایت پا کر <mark>نہی</mark>ں آیا۔کیا اس کے پاس اس قدر جواہرات وخزائن و اقوال معامات وقائق <mark>نہی</mark>ں ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں اور اس قدر ان کا دامن بعد جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے۔پس اگر یہ سچ ہے تو اس وقت دوسرے مودی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف ان امین موسولین امام باری یا اما ما ای این نی نی بان اور حاکم کے