الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 202
کسی نہیں کیونکہ کسی شخص پر اپنے ت<mark>حقیقی</mark> مقام کے متعلق تدریجا <mark>انکشاف</mark> ہرگز محل اعتراض نہیں ہوتا۔کیونکہ بہت سے ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء نے پہلے ولایت کا مقام حاصل کیا ہے اور پھر وہ ولایت کے مقام سے ترقی کر کے مقام <mark><mark>نبوت</mark></mark> پر سر فراز ہوتے چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ <mark><mark>نبوت</mark></mark> کے حصول کے دو طریق بیان کرتے ہیں۔پہلا طریق یہ ہے کہ ایک شخص کو براہ راست <mark><mark>نبی</mark></mark> بنا دیا جائے اور دوسرا طریق یہ ہے کہ پہلے کوئی شخص مقام ولایت حاصل کرے اور پھر اس مقام ولایت کے واسطہ سے کمال <mark><mark>نبوت</mark></mark> پر سر فرانہ ہو۔اس دوسرے طریق کا ا سرفراز ذکر آپ ان الفاظ میں فرماتے ہیں :- راه دیگر آنست که توسط حصول این کمالات و نایت محصول به کمالات <mark><mark>نبوت</mark></mark> میشه گرد و را و دوم شاهراه است و اقرب است به حصول که به کمالات <mark><mark>نبوت</mark></mark> رست الا ماشاء الله - این راه رفتند است از ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء کرام و اصحاب ایشان به تبعیت و دراشت" ر مکتوبات مجدد الف ثانی جلد اول مکتوب ۳۲ ۳۳۵) ترجمہ: <mark><mark>نبوت</mark></mark> ملنے کی دوسری راہ یہ ہے کہ کمالات ولایت کے حصول کے واسطہ سے کمالات <mark><mark>نبوت</mark></mark> کا حاصل ہونا میتر ہو۔یہ دوسری راہ شاہراہ ہے اور کمالات <mark><mark>نبوت</mark></mark> تک پہنچنے میں قریب ترین راہ ہے۔الا ماشاء <mark>اللہ</mark>۔اسی راہ پر ا<mark><mark>نبی</mark></mark>ائے کرام میں سے بھی اور ان کے اصحاب میں ان کی پیروی اور وراثت میں چلے ہیں۔