الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 167
علیہ السلام کا اقمت <mark>محمد</mark> یہ میں آنا مانا جائے تو ا<mark>نہی</mark>ں بہر حال <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ماننا پڑے گا اور حدیث لا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> بعدی میں چونکہ لا نفی جنس کا ہے جو ذات <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کی نفی کتا ہے۔اس لئے حدیث کے ان عام معنوں کے لحاظ سے کسی عہدہ نبوت پر ہونے کی نفی <mark>نہی</mark>ں ہوتی بلکہ <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے وجود کی ہی نفی ہوتی ہے۔پس اس حدیث کے عام معنوں کے لحاظ سے نہ کوئی پیلانی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد آسکتا ہے نہ ہی نیا <mark>نہی</mark> پیدا ہو سکتا ہے۔پس ا البتہ امام علی القاری اس خدمت کے یعنی بیان کرتے ہیں کہ : معناه عند العلماء لا يحدث بعد لاني بقرع يُنْسَخُ شَرعَهُ (الاشاعه فی اشراط الساعر منت والمشرب الموردي في مذهب المهدى 12 یعنی علماء کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> پیدا <mark>نہی</mark>ں ہوگا جو ایسی شریعیت کے ساتھ آئے جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شرع کو منسوخ کرے۔پس لا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> بعدی میں علماء امت نے بنی کا لفظ عام معنوں میں مراد <mark>نہی</mark>ں کیا بلکہ بعض دوسری حدیثوں کے پیش نظر جن میں ایک بنی کے مخص صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظہور کی خبر دی گئی ہے اس لفظ نسبی کو تھوریں معنوں میں مراد لیا ہے۔اور اس طرح یہ حدیث عام مخصوص با لبعض قرار پاتی ہے اس صورت میں جو بنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آئے۔وہ تی بھی ہوگا۔خواہ رہ با لعرض حضرت سیئے علیہ السلام ہوں یا کوئی اور انتی