احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 69
تعلیمی پاکٹ بک 69 69 حصہ اول وضاحت سے لکھا ہے کہ وفات <mark>مسیح</mark> کے قائل مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا قطعا جائز <mark>نہی</mark>ں بحث کے آخر پر لکھتے ہیں : 1 - إِنَّهُ لَيْسَ فِى الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ وَلَا فِي السُّنَّةِ الْمُطَهَّرَةِ مُسْتَنَدٌ يَصْلَحُ لِتَكْوَيْنِ عَقِيدَةٍ يَطْمَئِنُّ إِلَيْهَا الْقَلْبُ بِأَنَّ عِيسَى رُفِعَ بِجَسَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَ إِنَّهُ إِلَى الأَن فِيهَا۔2۔إِنَّ كُلَّ مَا تُفِيدُ الْآيَاتُ الْوَارِدَةُ فِي هَذَا الشَّانِ هُوَ وَعْدُ اللَّهِ عِيسَى بِأَنَّهُ مُتَوَفِّيْهِ أَجَلَهُ وَرَافِعَهُ إِلَيْهِ وَعَاصِمَهُ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَأَنَّ هَذَا الْوَعْدَ قَدْ تَحَقَّقَ فَلَمْ يَقْتُلُهُ أَعْدَاءُ هُ وَلَمْ يَصْلُبُوهُ وَلَكِن وَفَّاهُ اللهُ اَجَلَهُ وَرَفَعَهُ إِلَيْهِ۔یہ فتویٰ سب سے پہلے الرسالة 15 مئی 1942 ء جلد 1 صفحہ 642 میں شائع ہوا اور بعد میں الفتاویٰ کے نام سے مجموعہ فتاوی علامہ شلتوت میں الادارة العامة للثقافة الاسلامية بالازهر کے زیر اہتمام شائع ہوا)۔ترجمه: - 1- قرآن کریم اور سنت مطہرہ میں کوئی ایسی مستند نص <mark>نہی</mark>ں ہے جو اس عقیدہ کی بنیاد بن سکے اور جس پر دل مطمئن ہو سکے کہ عیسی علیہ السلام مع اپنے جسم کے آسمان پر اُٹھائے گئے اور وہ اب تک وہاں موجود ہیں۔2۔اس بارے میں جتنی آیات ( قرآن کریم میں ) وارد ہیں ان کا مفاد صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عیسی علیہ السلام سے وعدہ تھا کہ وہ خود ان کی عمر پوری کر کے وفات دے گا اور ان کا اپنی طرف رفع کرے گا اور ا<mark>نہی</mark>ں ان کے منکرین سے محفوظ رکھے گا اور یہ وعدہ پورا ہو چکا ہے چنانچہ ان کے دشمنوں نے ا<mark>نہی</mark>ں نہ قتل کیا نہ صلیب دے سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مقدر عمر پوری کی اور پھر ان کا رفع اپنی طرف کیا۔