احمدیہ تعلیمی پاکٹ بک — Page 138
تعلیمی پاکٹ بک 138 حصہ اول حصول کمالات نبوّت مرتابعان را بطریق تبعیت و وراثت بعد از بعثتِ خاتم الرسل على جميع الانبياء والرسل الصلواة والتحيات منافی خاتمیت او نیست علیه و علی آله الصلواة والسلام فَلَا تَكُن مِّنَ الْمُمْتَرِينَ۔(مکتوباتِ امام ربانی مجدد الف ثانی جلد 1 مکتوب نمبر 301صفحه 432) ترجمه : خاتم الرسل علیہ الصلوۃ والسلام کے مبعوث ہونے کے بعد خاص متبعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور پیروی اور وراثت کمالات <mark>نبوت</mark> کا حاصل ہونا آپ کے خاتم الرسل ہونے کے منافی نہیں پس اس میں شک مت کر۔مولوی عبدالحی صاحب لکھنوی تحریر فرماتے ہیں:۔ل بعد آنحضرت کے یا زمانے میں آنحضرت کے مجر دکسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ منع ہے۔نیز لکھتے ہیں : دافع الوسواس فی اثر ابن عباس صفحہ 16 بار دوم گردید ) علمائے اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہوسکتا اور <mark>نبوت</mark> آپ کی تمام مکلفین کو شامل ہے اور جو نبی آپ صلعم کے ہمعصر ہوگا وہ متبع شریعتِ دافع الوسواس صفحہ 29 نیا ایڈیشن و تحذیر الناس) محمد یہ ہوگا۔علامہ حکیم صوفی محمد حسن مصنف غایۃ البرہان لکھتے ہیں:۔الغرض اصلاح میں <mark>نبوت</mark> بخصوصیت الہیہ خبر دینے سے عبارت ہے۔وہ دو قسم کی ہے۔ایک <mark>نبوت</mark> تشریعی جوختم ہوگئی۔دوسری <mark>نبوت</mark> بمعنی خبر دادن ہے۔وہ غیر منقطع ہے پس اس کو مبشرات کہتے ہیں اپنے <mark>اقسام</mark> کے ساتھ اس میں سے رویا بھی ہے۔الكواكب الدرية صفحه 148،147)