اہلِ بیتِ رسول ﷺ

by Other Authors

Page 327 of 356

اہلِ بیتِ رسول ﷺ — Page 327

اولاد النبی <mark>کر</mark>بلا میں شمر کی آمد 327 حضرت <mark>امام</mark> حسین 8 محرم کو ابن زیاد نے ابن سعد کو کہلا بھیجا کہ <mark>تمہیں</mark> <mark>امام</mark> حسین سے مذا<mark>کر</mark>ات <mark>کر</mark>نے نہیں بھیجوایا تھا، اپنا فرض ادا <mark>کر</mark> و یا لش<mark>کر</mark> کی کمان چھوڑ دو۔اور مزید نگرانی کے لئے علی الصبح شمر ذی الجوشن کو بھی <mark>کر</mark> بلار وانہ <mark>کر</mark> دیا۔9 محرم الحرام کو شمر نے <mark>کر</mark>بلا پہنچ <mark>کر</mark> ابن سعد کو پیغام دیا کہ فوراً جنگ شروع <mark>کر</mark> دو، ورنہ کمان میرے سپرد <mark>کر</mark> دو۔ابن سعد نے تیاری شروع کی۔<mark>امام</mark> حسین نے اگلی صبح تک مہلت چاہی۔اس دوران شمر نے اپنے رحمی رشتہ کے واسطہ سے اہل بیت کے لیے امان کا اعلان <mark>کر</mark> کے حضرت <mark>امام</mark> حسین کے ساتھیوں کو ان سے الگ ہونے کی دعوت دی مگر انہوں نے نہایت حقارت سے اس پیشکش کو ٹھ<mark>کر</mark>اد یا اور ببانگ دہل کہا کہ ہم ہر قدم پر وفا <mark>کر</mark>یں گے اور جاں فدا <mark>کر</mark> کے دکھائیں گے۔رات کو حضرت <mark>امام</mark> حسین نے خیموں کے پیچھے خندق کھود <mark>کر</mark> اس میں لکڑیاں بھر دینے کا حکم دیا تا کہ بوقت ضرورت آگ جلا <mark>کر</mark> اسے حفاظتی روک کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔ملیں حضرت <mark>امام</mark> حسین کے بڑے صاحبزادے اٹھارہ سالہ علی اکبر پچاس ساتھیوں کے ہمراہ پانی کی چند بھر <mark>کر</mark> لائے۔حضرت <mark>امام</mark> حسین نے ساتھیوں سے فرمایا " یہ تمہارا آخری توشہ ہے۔وضو اور غسل <mark>کر</mark>و اور کپڑوں میں خوشبو لگاؤ کہ یہی تمہارے کفن ہوں گے "۔پھر آپ نے لمبی خندق پیچھے رکھ <mark>کر</mark> خیمے ترتیب دیئے۔جن کے آگے اپنے بھائی حضرت عباس کو علم سونپا، میمنہ پر زہیر اور میسرہ پر حبیب کو مقرر کیا۔دوسری طرف کئی ہزار کا یزیدی لش<mark>کر</mark> تھا۔جس کے میمنہ پر عمرو بن حجاج، میسرہ پر شمر ذی الجوشن ، سواروں پر عمرو بن قیس اور پیادوں کا سالار شیث بن رکاب تھا۔10 محرم کی شب اس مقدس قافلہ <mark>کر</mark>بلا کی آخری رات تھی۔جس میں حضرت <mark>امام</mark> حسین نے ہتھیار تیار <mark>کر</mark> وائے اور یہ رات عبادت اور دعاؤں میں گزاری۔ذرا آنکھ لگی تو خواب میں دیکھا کہ کتے ہم پر حملہ آور ہیں۔بہن زینب نے صورتحال بھانپ <mark>کر</mark> کہا کاش ! آج موت میرا خاتمہ <mark>کر</mark> دیتی۔میری ماں فاطمہ باپ علی اور بھائی حسن کے بعد آپ ہی ہمارا سہارا تھے۔<mark>امام</mark> حسین نے کمال تحمل سے فرمایا زینب ! حلم و وقار کو شیطان کے حوالے مت <mark>کر</mark>و۔عرض کیا بھائی آپ کے بدلے میری جان قربان ہو جائے۔حضرت حسین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔زینب بھی رونے لگیں تو بھائی نے صبر کی تلقین کی اور فرمایا " ایک نہ ایک دن سب نے خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔<mark>تمہیں</mark> خدا کی قسم کہ میری موت کے بعد اسوۂ رسول کے خلاف نہ <mark>کر</mark>نا۔نہ گریبان پھاڑنا نہ منہ نوچنانہ بین <mark>کر</mark>نا "_ O