آداب حیات — Page 243
۲۴۳ کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام <mark>کر</mark>نے اور مصافحہ <mark>کر</mark>نے کو باہمی اتحاد کا ذریعہ قرار دیا ہے۔سلام کہنا بہت بڑی نیکی ہے اور پاکیزہ معا ہے۔اور اخوت اسلامی کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دعوتوں اور تقاریب میں آپس میں سلام اور مصافحہ کو رواج دیا جائے۔4 ہاتھ دھو <mark>کر</mark> اور بسم اللہ پڑھ <mark>کر</mark> <mark>کھا</mark>نا <mark>کھا</mark>یا جائے اور <mark>کھا</mark>تے وقت صفائی کا خاص خیال ر<mark>کھا</mark> جائے۔۔<mark>کھا</mark>نے میں نقص نہ نکالے جائیں اور نہ ہی مذمت کی جائے۔حضرت رسول <mark>کر</mark>یم صلی اللہ علیہ وسلم دستر خوان پر جو <mark>کھا</mark>نا آتا اگر نا پسند ہوتا تو اس میں ہاتھ نہ ڈالتے لیکن اس کو برا نہ کہتے۔- (بخاری کتاب الاطعمه باب ما عاب النبی طعاماً قط) - منہ میں لقمہ ہو تو باتیں نہیں <mark>کر</mark>نی چاہئیں۔- <mark>کھا</mark>نے کی میز پہ اگر بزرگ بیٹھے ہوں تو <mark>کھا</mark>نے میں جلدی نہیں <mark>کر</mark>نی چاہئیے بلکہ جب تک وہ <mark>کھا</mark>نا شروع نہ <mark>کر</mark>یں باقیوں کو <mark>کھا</mark>نا شروع نہیں <mark>کر</mark>نا چاہیئے۔حضرت حذیفہ سے روایت ہے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی <mark>کھا</mark>نے پر جمع ہوتے تو ہم <mark>کھا</mark>نے میں ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم <mark>کھا</mark>نا شروع نہ <mark>کر</mark>یں۔ا مسلم کتاب الاشربہ باب اداب الطعام والشرب واحكامها ۱ چھری کانٹے اگر میز پر ہوں تو ان کا استعمال کیا جائے۔اسلام نے ان سے منع نہیں فرمایا۔تکلف اور ایک فعل پر زور دینے سے منع کیا ہے تاکہ غیر قوم سے مشابہت نہ ہو جائے۔اسلام سادگی کو پسند <mark>کر</mark>تا ہے اور <mark>گوشت</mark> وغیرہ کو دانتوں سے بھی <mark>کھا</mark>یا جاسکتا ہے۔