سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 449
الله صلى الله سيرة ابي عليه ت 434 جلد 7 ان کی عادت کو دیکھ کر ایک دفعہ ان کے بھانجے نے جس نے اُن کے مال کا وارث ہونا تھا کہیں کہہ دیا بھانجے سے ناراضگی کہ حضرت عائشہ تو اپنا سارا مال لٹا دیتی ہیں ۔ یہ خبر - جب حضرت عائشہ کو پہنچی تو آپ نے اپنے گھر میں اُس کا آنا جانا بند کر دیا اور قسم کھائی کہ اگر میں نے اسے اپنے گھر میں آنے کی اجازت دی تو میں اس کا کفارہ ادا کروں گی ۔ کچھ عرصہ کے بعد صحابہؓ نے درخواست کی کہ آپ اس کا قصور معاف فرمادیں۔ چنانچہ ان کے زور دینے پر حضرت عائشہ نے اسے معاف کر دیا مگر فرمایا کہ چونکہ میں نے یہ عہد کیا تھا کہ اگر میں اسے معاف کروں گی تو کفارہ ادا کروں گی اس لئے میں اس کا کفارہ یہ قرار دیتی ہوں کہ آئندہ میرے پاس جو دولت بھی آئے گی وہ میں سب کی سب غرباء اور یتامی ومساکین کی بہبودی کے لئے تقسیم کر دیا کروں گی 26۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کی کثرت اسی طرح صحابہ میں سے حضرت عبدالرحمن بن عوف لاکھوں روپیہ مال کے باوجود انتہائی سادہ زندگی کی جائیداد کے مالک تھے۔ چنانچہ جب آپ فوت ہوئے تو اڑھائی لاکھ دینار اُن کے گھر سے نکلا 27 مگر اتنی دولت رکھنے کے باوجود تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے اموال کا اکثر حصہ غرباء کی ترقی کے لئے خرچ دیا کرتے تھے 28۔ غرض صحابہ نے مال و دولت کو کبھی ذاتی بڑائی کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ اُسے بنی نوع انسان کی بہبودی کے لئے خرچ کیا ہے ۔ ایک صحابی کا اپنے تمام قرض معاف کر دینا یہ خوبی صحابہ میں اس قدر نمایاں پائی جاتی تھی کہ اسلامی تاریخ میں ایک مشہور صحابی حضرت قیس کے متعلق جنہیں فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کا کمانڈر مقرر فرمایا تھا روایت آتی ہے کہ