سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 431
سيرة النبي علي صلى الله 416 جلد 7 ایثار سے ایسا کیا جائے اور آفات و مصائب میں برداشت کے ذریعہ سے یہ بات حاصل کی جائے مگر بزدلانہ صبر نہیں بلکہ دلیرانہ صبر کہ جس میں باوجود طاقت کے برداشت اور عفو سے کام لیا جائے اور صرف خدا کو خوش کرنے کے لئے یہ کام کیا جائے اور اپنے اعلان کے آخر میں ہم پھر کہتے ہیں کہ یہ کام تیرے سپرد چند دن کے لئے نہیں کیا جاتا، چند سال کے لئے نہیں کیا جاتا اب تو ہی ہمارا ہو کر رہے گا اور ہمیشہ کیلئے اس عہدہ پر قائم رکھا جائے گا۔ دیوان خاص کی تیسری غرض (3) دیوان خاص کی تیسری غرض یہ ہوتی ہے کہ بادشاہ اپنے درباریوں کے کام میں سہولت پیدا کرنے کے لئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کرتا اور اُن کی مشکلات کے بارہ میں علاج تجویز کرتا ہے اور پھر انہیں مدد دینے کے وعدے کرتا ہے جس سے ان کے اندر کام کرنے کی ایک نئی روح پیدا ہو جاتی ہے ۔ دنیوی بادشاہوں کا طریق کار میں نے دیکھا کہ دنیوی بادشاہ ایسا کرتے ہیں مگر اول تو وہ ہمیشہ ہی صحیح علاج بتانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ دوسرے کئی دفعہ بادشاہ علاج بتانے کی جگہ خود اپنے درباریوں سے علاج پوچھتے ہیں اور اُن کی مشکلات میں مدد دینا تو الگ رہا خود اپنی مشکلات میں اُن سے مدد لینے کے محتاج ہوتے ہیں اور پھر جو وعدے کرتے ہیں ان کو بھی بسا اوقات وہ پورا نہیں کرتے ۔ قرآنی دیوان خاص کا نرالا طریق مگر اس دیوان خاص میں میں نے اس بارہ میں بھی نرالا طریق دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ بادشاہ خود ہی سب علاج بتاتا ہے اور خود ہی سب کچھ مہیا کرنے کا وعدہ ج بتاتا ہے اور خود سب کچھ مہیا کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر ہر وعدہ کو وہ پورا بھی کرتا ہے۔ چنانچہ میں نے قرآنی در بار خاص کا مطالعہ کیا تو مجھے عجیب حسن نظر آیا۔