سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 413
سيرة النبي علي صلى الله 398 جلد 7 غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر دنیا کی کایا پلٹ دی۔ مذہب کا نام غلاظت سمجھا جاتا تھا ۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہب کا نام صفائی رکھ دیا۔ اسی طرح لباس کی صفائی کے متعلق آپ نے احکام دیئے کہ جمعہ کے دن نئے کپڑے یا دھلے ہوئے کپڑے پہن کر آؤ ، عیدوں پر تمہارے کپڑے دھلے ہوئے ہوں۔ غرض جسمانی صفائی پر آپ نے اتنا زور دیا کہ دنیا میں روحانیت کا جو نقشہ تھا اُس کو بالکل بدل دیا۔ پہلے گندے اور غلیظ آدمی کے متعلق کہتے تھے کہ یہ نیک ہے اب صاف اور پاکیزہ آدمی کو نیک کہتے ہیں کتنا بڑا تغیر ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا۔ حضرت خلیفہ اول کا ایک واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ سر میں چکر آنے کی مرض تھی آپ بادام روغن اور مشک کا استعمال فرمایا کرتے تھے۔ حضرت خلیفہ اول سناتے تھے کہ ایک دفعہ میں درس دے کر واپس آ رہا تھا کہ ایک ہندو جس کے مکانات میں بعد میں صدر انجمن احمد یہ کے دفتر بن گئے ( کیونکہ ہم نے وہ مکان خرید لیا تھا) اور جو ریٹائرڈ ڈپٹی تھا اپنے صحن میں بیٹھا ہوا تھا مجھے دیکھتے ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا حکیم صاحب! ایک بات پوچھنی ہے آپ خفا تو نہیں ہوں گے؟ سنا ہے کہ مرزا صاحب پلاؤ اور بادام روغن کھا لیتے ہیں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے کھا لیتے ہیں ۔ حیران ہو کر کہنے لگا کیا یہ ٹھیک بات ہے؟ میں نے کہا ڈپٹی صاحب ! ہمارے مذہب میں پلاؤ اور بادام روغن جائز ہے۔ کہنے لگا کیا فقرا کے لئے بھی جائز ہے؟ میں نے کہا ہاں ہمارے مذہب میں فقرا کو بھی پاک چیزیں کھانے کا حکم ہے ۔ اس پر وہ اچھا “ کہہ کر واپس چلا گیا ۔ گویا جو طیب چیزیں کھائے وہ ان کی نگاہ میں بزرگ نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ تو حضرت خلیفہ اول کا واقعہ ہے جو تہذیب سے بات کرتے تھے ہمارے ایک اور دوست تیز زبان تھے اور مذاقیہ طبیعت کے تھے امرتسر کے رہنے والے تھے ان کے جواب ہمیشہ اسی طرز کے ہوا کرتے تھے۔ ان کو کوئی ہندو مجسٹریٹ مل گیا اور کہنے لگا کیا