سیرت النبی ﷺ (جلد ہفتم) — Page 400
سيرة النبي علي الله 385 جلد 7 میلادالنبی کا جلسہ ہوتا ہے تو ہم بھی جاتے ہیں کہ وہاں چل کر پتہ لگائیں گے کہ اسلام کیا ہوتا ہے مگر وہاں ہمیں یہ سنایا جاتا ہے کہ اسے کملی والیا ! اے زلفاں والیا! کہنے لگا ہم زلفیں دیکھنا نہیں چاہتے ، ہم کملی دیکھنا نہیں چاہتے ، ہم تو تعلیم سننا چاہتے ہیں مگر بجائے یہ بتانے کے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کیا تھی آپ کے کیا کام تھے اور آپ کی کیا خدمات تھیں ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ آپ کی زلفیں ایسی تھیں اور آپ کی کملی ایسی تھی ہم عشق مجازی تو نہیں کرنا چاہتے کہ ہمیں یہ باتیں بتائی جاتی ہیں۔ شرمندگی تو بہت ہوئی مگر خیر میں نے کہا لوگ غلطی کرتے ہیں ہمارا نقطہ نگاہ بھی آپ کبھی سن لیں۔ کہنے لگا میں نے آپ کی ایک تقریر سنی ہے اور اس سے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا طرز اور ہے مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے اس کے بعد یہ خواہش کرنا کہ ہم مسلمان ہو جائیں اور ہم سے اس کی امید رکھنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔ کیا کملی دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے یا زلفیں دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے؟ دربار خاص کا نقشہ دوسرے پس غیر احدی بھی اس دربار کا نقشہ کھینچتے دوسرے ہیں لیکن ان کا نقشہ میں پہلے سنا دیتا ہوں کہ کیا مسلمانوں کے نقطہ نگاہ سے ہوتا ہے ۔ وہ کہتے ہیں در بار خاص لگا ہوا ہے ، بادشاہ خلق وکون کی آمد آمد ہے ، چھوٹے چھوٹے درباروں کے اہلکار تو ایسے موقع پر ہمہ تن مصروف عمل ہوتے ہیں ، بھاگ دوڑ ہو رہی ہوتی ہے، افسر قرینہ سے کھڑے ہوتے ہیں اور منتظر ہوتے ہیں کہ بادشاہ آئے تو فوراً اس کا استقبال کریں اور اس کا اعزاز کریں اور اس کی تعریف کریں ۔ لیکن ہمارے بادشاہ کے دربار کا یہ حال بتایا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت تشریف لاتے ہیں ، تمام دربار میں خاموشی طاری ہو جاتی ہے اور جس کی خاطر در بار خاص لگایا گیا تھا وہ ایک کمبل اوڑھ کر ایک گوشے میں سویا پڑا ہے۔ اب بادشاہ اس کے پاس پہنچتا ہے ، اُس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، گھٹنے گھٹنے تک اس کے جسم پر میل چڑھی ہوئی ہے، بادشاہ سلامت آ کر اُسے