صحیح مسلم (جلد دوم) — Page 213
حیح مسلم جلد دوم 213 كتاب الصلاة 684 (162) وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ :884 قَرْعَہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ کے پاس آیا۔اس وقت ان کے پاس لوگ کثیر تعداد بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي قَرْعَةُ قَالَ میں موجود تھے، جب لوگ ان کے پاس سے چلے گئے أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدِ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَكْنُورٌ عَلَيْهِ تو میں نے کہا کہ میں آپ سے اس چیز کے بارہ میں فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لَا أَسْأَلُكَ نہیں پوچھوں گا جس کے بارہ میں ان لوگوں نے سوال عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ قُلْتَ أَسْأَلُكَ عَنْ کیا۔میں نے کہا کہ میں آپ سے رسول اللہ یہ کی صَلَاة رَسُول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نماز کے بارہ میں سوال کروں گا۔انہوں نے جواب فَقَالَ مَا لَكَ فِي ذَاكَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ دیا کہ تمہیں اس سے کوئی سہولت نہیں ہوگی۔(قزعہ ) فَقَالَ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ نے سوال ان پر دہرایا تب انہوں نے بتایا کہ ظہر کی نماز أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي کی اقامت کہی جاتی تو ہم میں سے کوئی بقیع کی طرف أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْمَسْجد جاتا اور وہاں اپنی حاجت سے فارغ ہو کر اپنے اہل کے وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي پاس واپس آتا اور وضوء کرتا۔پھر مسجد کی طرف لوٹتا الرَّكْعَةِ الْأُولَى [1021] تو رسول اللہ ﷺ بھی پہلی رکعت میں ہوتے۔قَالَ في [35]35: بَاب الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ صبح کی نماز میں قراءت 685 {163} وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ :685 حضرت عبداللہ بن سائب سے روایت ہے وہ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ کہتے ہیں نبی ﷺ نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَتَقَارَبَا تو آپ نے سورہ المؤمنون سے شروع کیا یہانتک اللفظ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ که حضرت موسی و حضرت ہارون یا حضرت عیسی کا جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ ذکر آ گیا۔جَعْفَرٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ محمد بن عباد اس میں شک کرتے ہیں یا اس بارہ میں وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَبْدُ الله اختلاف ہے ، (بہر حال) اس وقت نبی ﷺ کو بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کھانسی اٹھی اور آپ نے رکوع کیا۔عبداللہ بن