تذکرة الشہادتین — Page 309
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۰۵ رساله الوصیت جیسا کہ حضرت ابوب<mark>کر</mark> صدیق کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی <mark>طرح</mark> ہو گئے ۔ تب <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے حضرت ابو ب<mark>کر</mark> صدیق کو کھڑا <mark>کر</mark> کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور <mark>اُس</mark> وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جما دیں گے ۔ ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جب کہ حضرت موسی مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہو گئے اور بنی اسرائیل میں <mark>اُن</mark> کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بیوقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسی کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے <mark>ساتھ</mark> معاملہ ہوا۔ اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد بھی ہو گیا ۔ سواے عزیز و ! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال <mark>کر</mark> کے دکھلاوے سو اب ممکن نہیں ہے کہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> اپنی قدیم سنت کو ترک <mark>کر</mark> دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور <mark>اُس</mark> کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے <mark>جس</mark> کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا ۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر <mark>خدا</mark> <mark>اُس</mark> دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے <mark>ساتھ</mark> رے گی جیسا کہ <mark>خدا</mark> کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ <mark>خدا</mark> فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں النور : ۵۶