سَت بچن — Page 161
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۶۱ ست بچن جس پر نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد ۔ یہ نا پاک کلام لکھا گیا اور پھر وہ مکان بھی ناپاک ہو گیا جس میں ۴۱ یہ رکھا گیا اور پھر باوا صاحب کو کیا کہیں جو ایسے نا پاک چولے کو پہنی پھرے جس میں پہلی نظر میں ہی لا اله الا الله محمد رسول اللہ لکھا ہوا نظر آتا ہے چاہئے تھا کہ وید کی شرتیاں لکھا کر کوئی چولہ پہنتے تا اُس کی برکت سے مکتی ہو جاتی ۔ اے نالائق آریو ! کیوں اس قدر با وا صاحب کی بے ادبی کر رہے ہو کیا وہ گالیاں بس نہیں تھیں جو ایک نااہل پنڈت نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں دیں کیا با وا صاحب کے لئے کوئی بھی غیرت کرنے والا باقی نہیں رہا !!! بیشک وہ چولا اپنی اُن تمام پاک آیتوں کے ساتھ جو اُس پر لکھی ہوئی ہیں باوا صاحب کی ایک پاک یادگار ہے اور پاک ہے وہ مکان جس میں وہ رکھا گیا اور پاک ہے وہ کپڑہ جس پر وہ آیات لکھی گئی ہیں اور پاک تھا وہ وجود جو اُس کو پہنے پھرتا تھا اور لعنت ہے اُن پر جو اس کے برخلاف کہیں اور مبارک وہ ہیں جو چولا صاحب کے کلام سے برکت ڈھونڈھتے ہیں۔ نظم یہی پاک چولا ہے سکھوں کا تاج یہی کابلی مل کے گھر میں ہے آج یہی ہے کہ نوروں سے معمور ہے جو دور اِس سے اُس سے خدا دور ہے یہی جنم ساکھی میں مذکور ہے یہ جو انگر سے اس وقت مشہور ہے اسی پر وہ آیات ہیں بینات کہ جن سے ملے جاودانی حیات نانک کو خلعت ملا سرفراز خدا سے جو تھا درد کا چارہ ساز اسی سے وہ سب راز حق پا گیا اسی سے وہ حق کی طرف آ گیا اسی نے بلا سے بچایا اُسے ہر اک بد گہر سے چھوڑایا اُسے یہ اُس مرد کے تن کا تعویذ ہے یہ اُس بھگت کا رہ گیا اک نشاں نصیحت کی باتیں حقیقت کی جاں ذرا سوچو سکھو یہ کیا چیز ہے