براہین احمدیہ حصہ اوّل — Page 608
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۶۰۶ روحانی خزائن جلد 1 قیه حاشیه نمبر ا ا اور پھر اُس کے پیرو نے بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے اُن تعلیمات کو اور ریا سے مونہہ پھیر کر اور تمام ما سو اللہ کو کا لعدم سمجھ کر سیدھا خدا کی طرف رخ کر لینا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو موت کے برابر ہے اور یہ موت روحانی پیدائش کا مدار ہے ۔ اور جیسے دانہ جب تک خاک میں نہیں ملتا اور اپنی صورت کو نہیں چھوڑ تا تب تک نیا دانہ وجود میں آنا غیر ممکن ہے ۔ اسی طرح روحانی پیدائش کا جسم سوخدا نے توریت میں موسی کی بردباری کی ایسی تعریف کی جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں میں سے کسی کی تعریف میں یہ کلمات بیان نہیں فرمائے ۔ ہاں جو اخلاق فاضلہ حضرت خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسل کا قرآن شریف میں ذکر ہے وہ حضرت موسی سے ہزار ہا درجہ بڑھ کر ہے کیونکہ اللہ تعالی نے فرما دیا ہے کہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام ان اخلاق فاضلہ کا جامع ہے جو نبیوں میں متفرق طور پر پائے جاتے تھے۔ اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے۔ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ لے تو خُلقِ عظیم پر ہے۔ اور عظیم کے لفظ کے ساتھ تھ جس جس چیز کی بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۳ ا تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں تک درختوں کے لئے طول و عرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے۔ ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شہ فاضله و شمائله حسنه نفس انسانی سنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کا ملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں۔ سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا۔ وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا کے یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے اور کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔ یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب ۴۵ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں موجود ہے جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا اور چونکہ اُمتِ محمدیہ کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں اس لئے ۔ ل القلم : ۵ النساء: ۱۱۴ ۵۰۹ ۵۰۹