برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 355

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۵۳ شهادة القرآن کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا روحانی پڑتی رہیں گی یا ان کے گھر سے نزدیک آجائیں گی۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ آپہنچے گا۔ اور خدا تعالیٰ اپنے وعدوں میں تخلف نہیں کرتا ۔ اور ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ایک <mark>رسول</mark> بھیج نہ لیں ۔ ان آیات کو اگر کوئی شخص خص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالی اس امت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہہ دینا کیا معنی رکھتا تھا اور اگر خلافت راشدہ صرف تیس برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کے لئے اس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کے لئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کے لئے ہرگز ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ توارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔ افسوس کہ ایسے خیال پر جمنے والے <mark>خلیفہ</mark> کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم ہوتا ہے تدبر سے نہیں سوچتے کیونکہ <mark>خلیفہ</mark> جانشین کو کہتے ہیں اور <mark>رسول</mark> کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو <mark>ظل</mark>ی طور پر <mark>رسول</mark> کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے <mark>رسول</mark> کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر <mark>خلیفہ</mark> کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ <mark>خلیفہ</mark> در حقیقت <mark>رسول</mark> کا <mark>ظل</mark> ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ <mark>رسول</mark>وں کے وجود کو ۵۸ جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں <mark>ظل</mark>ی طور پر ہمیشہ کیلئے تا قیامت قائم رکھے سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے پس جو شخص خلافت کو صرف تیس برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہر گز نہیں تھا کہ <mark>رسول</mark> کریم