اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 399
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۹۹ نشان آسمانی ید بیضا که با او تابنده باز با ذوالفقار می بینم یعنی اس کا وہ روشن ہاتھ جو اتمام کے حجت کی رو سے تلوار کی طرح چمکتا ہے پھر میں اس کو ذوالفقار کے ساتھ دیکھتا ہوں یعنی ایک زمانہ ذوالفقار کا تو وہ گزر گیا کہ جب ذوالفقار علی كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ کے ہاتھ میں تھی مگر خدا تعالیٰ پھر ذوالفقار اس امام کو دے دے گا اس طرح پر کہ اس کا چمکنے والا ہاتھ وہ کام کرے گا جو پہلے زمانہ میں ذو الفقار کرتی تھی ۔ سو وہ ہاتھ ایسا ہوگا کہ گویا وہ ذوالفقار علی کرم اللہ وجہہ ہے جو پھر ظاہر ہو گئی ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ امام سلطان القلم ہوگا اور اس کی ۱۳ قلم ذوالفقار کا کام دے گی یہ پیشگوئی بعینہ اس عاجز کے اس الہام کا ترجمہ ہے جو اس وقت سے دس برس پہلے براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے اور وہ یہ ہے کتاب الولی ذو الفقار علی ۔ یعنی کتاب اس ولی کی ذوالفقار علی کی ہے ۔ یہ اس عاجز کی طرف اشارہ ہے ۔ اسی بناء پر بارہا اس عاجز کا نام مکاشفات میں غازی رکھا گیا ہے۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے بعض دیگر مقامات میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ غازی دوست دار دشمن کش ہمدم و یار غار می بینم وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک غازی ہے دوستوں کو بچانے والا اور دشمنوں کو مارنے والا ۔ صورت و سیرتش چو پیغمبر علم و حلمش شعار می بینم یعنی ظاہر و باطن اپنا نبی کی مانند رکھتا ہے اور شان نبوت اس میں نمایاں ہے اور علم اور حلم اس کا شعار ہے مراد یہ کہ بباعث اپنی اتباع نبی کریم کے گویا وہی صورت اور وہی سیرت اس کو حاصل ہو گئی ہے یہ اس الہام کے مطابق ہے جو اس عاجز کے بارے میں براہین میں چھپ