آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 170
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۷۰ آئینہ کمالات اسلام ۱۷۰ اس مقام کے مناسب حال ہو سکتے ہیں جو شخص قرآن کریم کی اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اُس پر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم و رحیم جل شانہ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معنا نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کریم کے حق میں فرمایا وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَی کے اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔ حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقادر کھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کافر بے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہے جو آیت کے سیاق تمام ارادے اول انہیں کے مرایا صافیہ میں منعکس ہوتے ہیں اور پھر ان کے توسط سے کل مخلوقات میں پھیلتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ بوجہ اپنے تقدس تام کے نہایت تجرد اور تنزہ میں ہے اس لئے وہ چیزیں جوانا نیت اور ہستی محجوبہ کی کثافت سے خالی نہیں اور محجوب با نفسہا ہیں اس مبدء فیض سے کچھ مناسبت نہیں رکھتیں اور اسی وجہ سے ایسی چیزوں کی ضرورت پڑی جو من وجہ خدا تعالیٰ سے مناسبت رکھتی ہوں اور من وجہ اس کی مخلوق سے تا اس طرف سے فیضان حاصل کریں اور اس طرف پہنچا دیں ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی اپنے وجود اور قیام اور حرکت اور ارادہ کاملہ بھی قدرت کاملہ کی طرح دونوں شقوں سرعت اور بطو کو چاہتا ہے مثلاً ہم جیسا یہ ارادہ کر سکتے ہیں کہ ابھی یہ بات ہو جائے ایسا ہی یہ بھی ارادہ کر سکتے ہیں کہ دس برس کے بعد ہو مثلا ریل اور تار اور صدہا کلیں جو اب نکل رہی ہیں بے شک ابتداء سے خدا تعالیٰ کے ارادہ اور علم میں تھیں الضحى : ٨