آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 112
روحانی خزائن جلد ۵ ۱۱۲ آئینہ کمالات اسلام اخذ نہ کرتے ان کی نظر تو اس آیت پر تھی وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحی اگر صحابہ تمہاری طرح میں شیطان کا اعتقاد رکھتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سید المعصومین کیوں قرار دیتے خدا تعالیٰ سے ڈرو کیوں افترا پر کمر باندھی ہے۔ مصطفی را چون فروتر شد مقام از مسیح ناصری اے طفل خام آنکه دست پاک او دست خداست چوں تو اں گفتن که از روحش جداست آنکہ ہر کردار و و قولش قول دین ن امام ماست است یکدم از جبریل یل بعدش بعدش چون رواست ید اللہ فوق ایدیهم ۱۲ یعنی از روح القدس ۱۲ بر امام انبیاء ایس افترا چوں نمی ترسید از قهر خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلا شبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل ۔ خفی ہو یا جلی۔ بین ہو کے ہر ایک قول وفعل کو حجت دین نہ ٹھہراتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کبھی صحابہ کا یہ اعتقاد نہیں ہوا کہ روح القدس آپ سے جدا بھی ہو جاتا تھا یونانیوں کی تحقیق کی رو سے شہب ثاقبہ کی کیفیت اگر صحابہ یہ اعتقاد رکھتے تو پھر آنحضرت صلی ا بقيه حاشيه جو اِن امور سے بیان کئے گئے ہیں کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ۔ چنانچہ شرح اشارات میں جہاں کا ئنات الجو کے اسباب اور علل لکھے ہیں صرف اسی قدر حدوث شہب کا سبب لکھا ہے کہ جب دخان حیز نار میں پہنچتا ہے اور اس میں کچھ دہنیت اور لطافت ہوتی ہے تو بباعث آگ کی تاثیر کے ایک دفعہ بھڑک اٹھتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بھڑ کنے کے ساتھ ہی بجھ گیا مگر اصل میں وہ بجھتا نہیں ۔ بات یہ ہے کہ دُخان کی دونوں طرفوں میں سے پہلے ایک طرف بھڑک اٹھتی ہے جو اوپر کی طرف ہے پھر وہ اشتعال دوسری طرف میں جاتا ہے اور اُس حرکت کے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے - کہ گویا اُس اشتعال کا ایک خط ممتد ہے اور اسی کا نام شهاب ہے جو د خان کے خط ممتد میں طرف اسفل کے قریب پیدا ہوتا ہے اور پھر جب اجزاء ارضیہ اُس دخان کی آتش خالص کی طرف مستحیل ہو جاتی ہیں تو بوجہ پیدا ہو جانے بساطت کے النجم: ۵۴