تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 419
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۹ سورة الرعد انْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيَّا وَ مِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعِ زَبَدُ مِثْلُهُ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ كَذلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ ۔ خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام ) اتار اسواس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق بہ نکلا۔ یعنی ہر ایک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا۔ طبائع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں۔ اور جو اُن سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجہ پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جاپہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے۔ ( براہین احمد یہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۲ حاشیہ نمبر ۱۱) اسی نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہر یک وادی اپنے اپنے اندازہ اور قدر کے موافق بہ نکلا یعنی ہر یک شخص نے اپنی استعداد کے موافق فائدہ اٹھایا۔ ( براہین احمد یہ چہار قصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۳۳) اے غافلو ! اس امت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں مگر حسب مراتب ۔ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۱) آسمان سے پانی اتارا۔ پس ہر ایک وادی اپنے اپنے قدر میں بہ نکلا۔ (جنگ مقدس ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۸۶) خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے پانی اتارا پس اپنے اپنے قدر پر هر یک وادی به نکلی یعنی جس قدر دنیا میں طبائع انسانی ہیں قرآن کریم ان کے ہر ایک مرتبہ فہم اور عقل اور ادراک کی تربیت کرنے والا ہے۔ اور یہ امر مستلزم کمال تام ہے کیونکہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کریم اس قدر وسیع دریائے رف ہے کہ محبت الہی کے تمام پیاسے او پیاسے اور معارف حقہ کے تمام تو کے تمام تشنہ لب اسی سے پیتے ہیں ۔ معارف (کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۵۹)