تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 177

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۷ سورة ال عمران زبان، نہ ہاتھ، نہ پاؤں، سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آ جاوے۔ دیکھنے والے جان لیں کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اور ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ تو بہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں یہ برکات کا سرچشمہ ہے ۔ در حقیقت اولیاء اور صلحاء یہی لوگ ہوتے ہیں جو توبہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں وہ گناہ سے دور اور خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں کامل تو بہ کرنے والا شخص ہی ولی قطب اور غوث کہلا سکتا ہے۔ اسی حالت میں وہ خدا کا محبوب بنتا ہے۔ اس کے بعد بلائیں اور مصائب جو انسان کے واسطے مقدر ہوتی ہیں مل جاتی ہیں۔ ۱۹ ء صفحه (۱۰) الحکم جلدے نمبر ۱۱ مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللهَ بِهِ عَلِيمٌ ۔ تم حقیقی نیکی کو جو نجات تک پہنچاتی ہے ہرگز پانہیں سکتے بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۸) وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں۔ خدا کو راضی کرنے والی اس سے زیادہ کوئی قربانی نہیں کہ ہم در حقیقت اس کی راہ میں موت کو قبول کر کے اپنا وجود اس کے آگے رکھ دیں اسی قربانی کی خدا نے ہمیں تعلیم دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: کن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یعنی تم حقیقی نیکی کو کسی طرح پا نہیں سکتے جب تک تم اپنی تمام پیاری چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ ہے۔ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۴۷) تم حقیقی نیکی کو ہر گز نہیں پاسکتے جب تک کہ بنی نوع کی ہمدردی میں وہ مال خرچ نہ کرو جو تمہارا پیار امال اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۸) مال کے ساتھ محبت نہیں چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۔ تم ہرگز نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک کہ تم ان چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ جن سے تم پیار کرتے ہو۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ آج کل کے حالات کا مقابلہ کیا جاوے تو اس زمانہ کی حالت پر افسوس آتا ہے کیونکہ جان سے پیاری کوئی شے نہیں اور اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان ہی دینی پڑتی تھی۔ تمہاری طرح وہ بھی بیوی اور بچے رکھتے تھے جان سب کو پیاری لگتی ہے مگر وہ ہمیشہ اس بات