ملفوظات (جلد 9)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 412

ملفوظات (جلد 9) — Page 240

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ۔ جلد نهم مرنا تو بیشک سب نے ہے مگر یہ موتیں جو آجکل ہو رہی ہیں یہ تو ذلت کی موتیں ہیں۔ خدا اس سے محفوظ رکھے کہ ایک ابھی دفن نہیں ہوا تھا کہ دوسرا جنازہ تیار ہے۔ پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اپنا معاملہ صاف رکھو کہ خدا کا فضل تمہارے شامل حال ہو جو کام کر ونفسانی غرض سے الگ ہوکر کرو تا خدا کے حضور اجر پاؤ۔ حضرت علی کی نسبت روایت ہے کہ ایک کافر نے جس پر قابو پا چکے تھے ان کے منہ پر تھوکا تو آپ نے چھوڑ دیا۔ اس نے پوچھا یہ کیوں؟ تو فرمایا اب میرے نفس کی بات درمیان میں آگئی۔ اس نے جب دیکھا کہ یہ لوگ نفسانی کاموں سے اس قدر الگ ہیں تو مسلمان ہو گیا ۔ ایسے ایسے عملی نمونوں سے وہ کام ہو سکتا ہے جو کئی تقریریں اور وعظ نہیں کرتے۔ بلا تاریخ طلاق فرمایا۔ جائز چیزوں میں سے سب سے زیادہ برا خدا اور اس کے رسول نے طلاق کو قرار دیا ہے اور یہ صرف ایسے موقعوں کے لیے رکھی گئی ہے جبکہ اشد ضرورت ہو ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے جو رب ہے کہ سانپوں اور بچھوؤں کے لیے خوراک مہیا کی ہے ویسا ہی ایسے انسانوں کے لیے جن کی حالتیں بہت گری ہوئی ہیں اور جو اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے ۔ طلاق کا مسئلہ بنا دیا ہے کہ وہ اس طرح ان آفات اور مصیبتوں سے بچ جاویں جو طلاق کے نہ ہونے کی صورت میں پیش آئیں یا بعض اوقات دوسرے لوگوں کو بھی ایسی صورتیں پیش آجاتی ہیں اور ایسے واقعات ہو جاتے ہیں کہ سوائے طلاق کے اور کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔ پس اسلام نے جو کہ تمام مسائل پر حاوی ہے یہ مسئلہ طلاق کا بھی دکھلایا ہے اور ساتھ ہی اس کو مکر وہ بھی قرار دیا ہے۔ رازق فرمایا۔ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالی ہے کبھی رزق سے محروم نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے ۔ م الحکم جلد ا ا نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۶ اپنے پر