ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 94

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹۴ جلد چهارم ایسے دین کو چھوڑ دیں۔ ہزاروں ہزار لوگ پائے جاتے ہیں جن کے مرتد ہونے کی وجہ یہی مولوی ہو گئے ہیں۔ یہ بات کہ وہ سوال کیوں کرتے ہیں بڑی سہل ہے۔ یہ لوگ تیرہ سو برس کے بعد چونکہ پیدا ہوئے ہیں۔ اس قدر بعد زمانہ کی وجہ سے گویا یہ تاریکی کا زمانہ کہنا چاہیے۔ اس لئے ان کو حق حاصل ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے پوچھیں لیکن سوال کرنے پر انہوں نے جو اخلاق ان مولویوں کے دیکھے انہوں نے ان کو گمراہ کر دیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو معذور اور واجب الرحم سمجھ کر نرمی سے پیش آتے اور ان کو سمجھاتے۔ مگر اُلٹا انہوں نے ان کو اسلام سے بیزار کر دیا۔ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اسلام کی تعلیم کی خوبیاں ظاہر کروں اور پھر ان خوبیوں کا عملی ثبوت اور اس کی تاثیروں کو دکھاؤں ۔ - پس اس وقت ہمارے دو کام ہیں ۔ اول یہ کہ ان نشانوں کے ساتھ مسیح موعود کے دو کام جو الہ تعالی دکھارہاہے کہ اب کیا جاوے کہ مجیب اور ناطق خدا ہمارای ثابت ہے جو ہماری دعاؤں کو سنتا اور ان کے جواب دیتا ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگ جو خدا پیش کرتے ہیں وہ اَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا (طه: ۹۰) کا مصداق ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بوجہ ان کے کفر اور بے دینی کے ان کی دعا ئیں مَا دُعَوُا الكَفِرِينَ اِلَّا فِي ضَيْلِ (الرعد: ۱۵) کی مصداق ہو گئی ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ تو سب کا ایک ہی ہے۔ مگر ان لوگوں نے اس کی صفات کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ پس یا درکھو کہ ہمارا خدا ناطق خدا ہے۔ وہ ہماری دعا ئیں سنتا ہے۔ ہماری جماعت کو خدا تعالیٰ ہماری جماعت کا خدا تعالی سے سچا تعلق ہونا چاہیے سے کیا تعلق ہونا چاہیے اور ان کو شکر کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ ان کی ایمانی قوتوں کو یقین کے درجہ تک بڑھانے کے واسطے اپنی قدرت کے صدہا نشان دکھائے ہیں ۔ کیا کوئی تم میں سے ایسا بھی ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جس کو ہماری صحبت میں رہنے کا موقع ملا ہو اور اس نے خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ نشان اپنی آنکھ