ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 404

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ولد جلد دوم ۱۳ دسمبر ۱۹۰۱ء جمع بین الصلاتین کے متعلق حضرت حجۃ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک تقریر جو آپ نے ۱۳ دسمبر ۱۹۰۱ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں فرمائی۔ سب صاحبوں کو معلوم ہو کہ ایک مدت سے خدا جمع بین الصلوٰ تین مہدی کی علامت جانے قریباً چھ ماہ یا کم و بیش عرصہ سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کی جاتی ہے۔ میں اس کو مانتا ہوں کہ ایک عرصہ سے جو مسلسل نماز جمع کی جاتی ہے ایک نو وارد یا نومرید کو جس کو ہمارے اغراض و مقاصد کی کوئی خبر نہیں ہے یہ شبہ گزرتا ہو گا کہ کاہلی کے سبب سے نماز جمع کر لیتے ہوں گے جیسے بعض غیر مقلد ذرا ابر ہوا یا کسی عدالت میں جانا ہوا تو نماز جمع کر لیتے ہیں اور بلا مطر اور بلا عذر بھی نماز جمع کرنا جائز سمجھتے ہیں مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم کو اس جھگڑے کی ضرورت اور حاجت نہیں اور نہ ہم اس میں پڑنا چاہتے ہیں کیونکہ میں طبعاً اور فطرتا اس کو پسند کرتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اور نماز موقوتہ کے مسئلہ کو بہت ہی عزیز رکھتا ہوں بلکہ سخت مطر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ نماز اپنے وقت پر ادا کی جاوے اگر چہ شیعوں نے اور غیر مقلدوں نے اس پر بڑے بڑے مباحثے کئے ہیں مگر ہم کو ان سے کوئی غرض نہیں وہ صرف نفس کی کاہلی۔ اسے کام لیتے ہیں سہل حدیثوں کو اپنے مفید مطلب پاکر ان سے کام لیتے ہیں اور مشکل کو موضوع اور مجروح ٹھہراتے ہیں ہمارا یہ مدعا نہیں بلکہ ہمارا مسلک ہمیشہ حدیث کے متعلق یہی رہا ہے کہ جو قرآن اور سنت کے مخالف نہ ہو وہ اگر ضعیف بھی ہو تب بھی اس پر عمل کر لینا چاہیے۔ اس وقت جو ہم نمازیں جمع کرتے ہیں تو اصل بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی تفہیم ، القا اور الہام کے بڑوں نہیں کرتا بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ میں ظاہر نہیں کرتا مگر اکثر ظاہر ہوتے ہیں۔ جہاں تک خدا تعالیٰ نے مجھ پر اس جمع بین الصلاتین کے متعلق ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے تُجْمَعُ لَهُ الصَّلوة کی بھی عظیم الشان پیشگوئی کی تھی جواب پوری ہو رہی ہے۔ میرا یہ