ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 276 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 276

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۶ جلد اول ۲۲ جون ۱۸۹۹ء حضرت اقدس نے کل باتوں باتوں میں فرمایا کہ یقیناً یا د رکھو کہ خدا اپنے بندہ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور ہر گز نہیں اُٹھائے گا جب تک اُس کے ہاتھ سے وہ باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کے لیے وہ آیا ہے۔ اسے کسی کی خصومت اور کسی کی بددعا کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتی۔ اس کی تحریک یوں ہوئی کہ کسی نے کہا کہ اب مخالف ملہم صاحب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ کی تباہی اب قریب ہے ۔ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ( الكهف : 1) پھر بڑے درد دل سے فرمایا کہ کل ( یعنی ۲۲ جون ۱۸۹۹ء) بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ تم تقویٰ و طہارت لوگ مشتقی بن جاؤ اور تقوی کی باریک راہوں پر چل تو خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔ فرمایا ۔ اس سے میرے دل میں بڑا درد پیدا ہوتا ہے کہ میں کیا کروں کہ ہماری جماعت سچی تقوی وطہارت اختیار کرلے۔ پھر فرمایا کہ میں اتنی دعا کرتا ہوں کہ دعا کرتے کرتے ضعف کا غلبہ ہو جاتا ہے اور بعض اوقات غشی اور ہلاکت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ فرمایا۔ جب تک کوئی جماعت خدا کی نگاہ میں متقی نہ بن جائے خدا کی نصرت اس کے شامل حال ہو نہیں سکتی۔ فرمایا۔ تقوی خلاصہ ہے تمام صحف مقدسہ اور توریت و انجیل کی تعلیمات کا۔ قرآن کریم نے ایک ہی لفظ میں خدا تعالیٰ کی عظیم الشان مرضی اور پوری رضا کا اظہار کر دیا ہے۔ فرمایا۔ میں اس فکر میں بھی ہوں کہ اپنی جماعت میں سے سچے متقیوں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والوں اور منقطعین الی اللہ کو الگ کروں اور بعض دینی کام انہیں سپر د کروں اور پھر میں دنیا کے ہم وغم میں لے منشی الہی بخش اکو نٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ (مرتب)