ملفوظات (جلد 1) — Page 175
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۵ جلد اول ہو جائیں ۔ جیسے ایک پودا جو لگایا گیا ہے جب تک پورا نشو و نما حاصل نہ کرے اس کو پھول پھل نہیں لگ سکتے ۔ اسی طرح اگر کسی ہدایت کے اعلیٰ اور اکمل نتائج موجود نہیں ہیں وہ ہدایت کردہ ہدایت ہے جس کے اندر کوئی نشوونما کی قوت اور طاقت نہیں ہے۔ جیسے اگر کسی کو دید کی ہدایت پر پورا عمل کرنے سے کبھی یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ ہمیشہ کی مکتی یا نجات حاصل کرلے گا اور کیڑے مکوڑے بنے کی حالت سے نکل کر دائمی سرور پالے گا تو اس ہدایت سے کیا حاصل مگر قرآن شریف ایک ایسی ہدایت ہے کہ اُس پر عمل کرنے والا اعلیٰ درجہ کے کمالات حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے اس کا ایک سچا تعلق پیدا ہونے لگتا ہے یہاں تک کہ اُس کے اعمالِ صالحہ جو قرآنی ہدایتوں کے موافق کیسے جاتے ہیں وہ ایک فجر طیب کی مثال پر جو قرآن شریف میں دی گئی ہے بڑھتے ہیں اور پھل پھول لاتے ہیں۔ ایک خاص قسم کی حلاوت اور ذائقہ اُن میں پیدا ہوتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص اپنے ایمان میں نشوونما کا مادہ نہیں رکھتا بلکہ اس کا ایمان مُردہ ہے تو اس پر اعمال صالحہ کے طبیب اشجار کے بارور ہونے کی کیا اُمید ہو سکتی ہے؟ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة :) کہہ کر ایک قید لگا دی ہے۔ یعنی یہ راہ کوئی بے ثمر اور حیران اور سر گرداں کرنے والی راہ نہیں ہے بلکہ اس پر چل کر انسان با مراد اور کامیاب ہوتا ہے اور عبادت کے لئے تکمیل عملی ضروری شے ہے ورنہ وہ محض ایک کھیل ہوگا کیونکہ درخت اگر پھل نہ دے خواہ وہ کتنا ہی اُونچا کیوں نہ ہو مفید نہیں ہو سکتا۔ ہمارے مخالفوں کی حالت مامور من اللہ کے مخالفوں کا ایمان سلب ہو جاتا ہے ایسی ہے جس سے سلب ایمان سے کا اندیشہ ہے۔ یشہ ہے ۔ کیونکہ وہ نیک کو بُرا اور مامور من اللہ کو کذاب سمجھتے ہیں جس سے خدا تعالیٰ کے ساتھ ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اور اب یہ صاف امر ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے مامور اور مسیح موعود کے نام سے دنیا میں بھیجا ہے جو شخص میری مخالفت کرتے ہیں وہ میری نہیں خدا تعالیٰ کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ جب تک میں نے دعویٰ نہ کیا تھا بہت سے اُن میں سے مجھے عزت کی نگاہ