خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد 17 530 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2019 بڑھے۔یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔" یہی دعا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے " اور انسان کو نامعقول باتوں سے ہٹاتی ہے۔اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دعا کرے۔" پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی دعا کرو پھر دنیاوی ضروریات جو ہیں ان کے لیے بھی دعا کرو کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے ہی ملتی ہیں" یہ اس واسطے روار کھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتے ہیں خاص کر خامی اور کج پنے کے زمانہ میں یہ امور ٹھو کر کا موجب بن جاتے ہیں۔"جو کمزوریاں ہوتی ہیں ، دنیاوی معاملات ٹھوکر کا موجب بن جاتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ سے پہلے تعلق قائم کرو پھر دنیاوی معاملات کے لیے بھی دعا کرو۔فرمایا کہ "صلوۃ کا لفظ پُر سوز معنے پر دلالت کرتا ہے جیسے آگ سے سوزش پیدا ہوتی ہے ویسی ہی گدازش دعا میں پیدا ہونی چاہیے۔جب ایسی حالت کو پہنچ جائے جیسے موت کی حالت ہوتی ہے تب اس کا نام صلوۃ ہو تا ہے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 367-368) پس یہ ہے نماز کی حقیقی حالت جسے حاصل کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔پھر ایک جگہ آپ علیہ السلام نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ یاد رکھو اگر ایمان کا دعویٰ ہے تو پھر نمازوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔تین نمازیں پڑھ کر یا چار نمازیں پڑھ کر جس طرح بعض لوگ کرتے ہیں پھر ایمان کا دعویٰ غلط بات ہے کیونکہ ایمان کی جڑ نماز ہے اور جس کی جڑ ہی نہیں ہے وہ ایک کھو کھلے درخت کی طرح ہے جس کو ذراسی ہوا جو ہے زمین پر گرادے گی۔آپ فرماتے ہیں:۔" جس طرح بہت دھوپ کے ساتھ آسمان پر بادل جمع ہو جاتے ہیں اور بارش کا وقت آجاتا ہے ایسا ہی انسان کی دعائیں ایک حرارت ایمانی پیدا کرتی ہیں اور پھر کام بن جاتا ہے۔نماز وہ ہے جس میں سوزش اور گدازش کے ساتھ اور آداب کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہوتا ہے۔جب انسان بندہ ہو کر لا پرواہی کرتا ہے تو خدا کی ذات بھی غنی ہے۔" اس کو بھی کوئی پروا نہیں ہوتی پھر۔"ہر ایک امت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس میں توجہ الی اللہ قائم رہتی ہے۔ایمان کی جڑ بھی نماز ہے۔بعض بے وقوف کہتے ہیں کہ خدا کو ہماری نمازوں کی کیا حاجت ہے۔" فرمایا کہ "اے نادانو ! خدا کو حاجت نہیں۔" اس کو ضرورت نہیں ہے " مگر تم کو تو حاجت ہے۔" تمہیں ضرورت ہے نمازوں کی " کہ خدا تعالیٰ تمہاری طرف توجہ کرے۔خدا کی توجہ سے بگڑے ہوئے کام سب درست ہو جاتے ہیں۔نماز ہزاروں خطاؤں کو دور کر دیتی ہے اور ذریعہ حصول قرب الہی ہے۔" (ملفوظات جلد 7 صفحہ 378) اور پھر صرف نماز پڑھنے تک ہی نہیں کہ اس سے قرب الہی ملتا ہے، خطائیں معاف ہو جاتی ہیں اور بگڑے کام درست ہو جاتے ہیں بلکہ نیک نیتی سے مسجد میں آنے والے اور بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنے والے کے