خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 315 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 315

خطبات مسرور جلد 15 315 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 ہے جو نازل ہو چکی ہو اور ایسی مصیبت کے بارے میں بھی جو ابھی نازل نہ ہوئی ہو۔فرمایا کہ پس اے اللہ کے بند و! دعا کو اپنے اوپر لازم کر لو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہمیں دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے۔آج ہر احمدی (سنن الترمذى كتاب الدعوات باب من فتح له منكم باب الدعاء۔۔۔الخ حديث 3548) کا فرض ہے کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں کے درد کو محسوس کرتے ہوئے، ان آنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں کو محسوس کرتے ہوئے جو ابھی ان پر نہیں آئیں اور جن کا ان کو احساس بھی نہیں ہے۔حکومتیں اور ایک طبقہ تو اپنے مقاصد کے لئے ایسی حرکتیں کر رہا ہے لیکن لاکھوں کروڑوں معصوم دنیا میں ہیں، ان ملکوں میں ہیں جن کو پتا بھی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور کیا ہو رہا ہے اور وہ بے ضرر اور معصوم ہیں ان کے لئے ہمارا فرض ہے کہ دعا کریں۔یہ لوگ جو دنیا دار ہیں وہ بھی سمجھتے ہیں کہ ہم، جیسا کہ میں نے کہا کہ ہم دنیاوی حصاروں میں رہ کر ان اثرات سے محفوظ رہیں گے۔لیکن نہیں سمجھتے کہ آفات اور تباہی بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔آج غلامان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی یہ فرض ہے کہ جہاں اپنے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دین پر قائم اور مضبوط رکھے، اللہ تعالیٰ سے تعلق کو اور دعاؤں کی طرف توجہ میں انہیں بڑھاتا رہے، ان کی پریشانیوں اور مشکلات کو دور فرمائے ، وہاں مسلم اللہ کے لئے بھی دعا کریں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی عقل دے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں۔اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔غیروں اور اسلام مخالف طاقتوں کی جھولی میں نہ گریں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی سلامتی، ان کی ترقی کے لئے اپنے جس فرستادے کو بھیجا ہے وہ اسے ماننے والے ہوں۔اسی طرح ایک درد کے ساتھ انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لئے بھی دعا کریں۔جنگوں کے ٹلنے کے لئے دعا کریں۔دعاؤں اور صدقات سے بلائیں ٹل جاتی ہیں۔اگر اصلاح کی طرف دنیا مائل ہو جائے تو یہ جنگیں ٹل بھی سکتی ہیں۔ہم اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ دنیا کا ایک حصہ تباہ ہو اور پھر باقی دنیا کو عقل آئے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں اور آنے والے کو ما نہیں بلکہ ہم تو اس بات پر خوش ہیں اور کوشش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس کے بد اعمال کی وجہ سے تباہی میں نہ ڈالے اور دنیا کو عقل دے کہ وہ بد انجام سے بچیں۔جہاں مسیح موعود کے غلاموں کا یہ کام ہے کہ اس پیغام کو عام کریں کہ عافیت کا حصار اب مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جڑنے سے ہی حاصل ہو سکتا ہے یا جڑنے میں ہی ہے، وہاں ہم ان کے لئے دعائیں بھی کریں۔اس یقین کے ساتھ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہماری دعاؤں سے ان کو عقل بھی آجائے اور اللہ تعالیٰ ان کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بھی بچالے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اس مشن کو پورا کرنے والے ہوں جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ