خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 505

خطابات شوری جلد دوم ۵۰۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء جب انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر پر ناراض ہو رہے ہیں تو انہوں نے جھٹ اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! قصور میرا ہی تھا عمرؓ کا قصور نہیں تھا۔ تو ان لوگوں کی خدمات اور قربانیوں کو اگر دیکھا جائے تو واقعہ میں ان کا پایہ نہایت بلند معلوم ہوتا ہے۔ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ایسا عشق تھا جس کی نظیر تاریخ کے صفحات میں نظر نہیں آتی ۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ان کے ایک بیٹے نے جو بعد میں مسلمان ہوئے کہا کہ ابا فلاں جنگ کے موقع پر جب آپ فلاں جگہ سے گزرے تھے تو اُس وقت میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا اور اگر چاہتا تو آپ پر حملہ کر کے آپ کو ہلاک کر سکتا تھا مگر مجھے خیال آیا کہ اپنے باپ کو کیا مارنا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو کہا تیری قسمت اچھی تھی کہ تو مجھے دکھائی نہیں دیا۔ ورنہ اگر تو مجھے دکھائی دیتا تو خدا کی قسم ! میں تجھے ضرور قتل کر دیتا ہے یہ وہ جذبہ محبت ہے جو صحابہؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے متعلق تھا کہ انہوں نے آپ کی محبت کے مقابلہ میں نہ بیٹے کی محبت کی پرواہ کی ، نہ بیوی کی محبت کی پرواہ کی ، نہ عزیزوں اور دوستوں کی محبت کی پرواہ کی ۔ صحابہ کا جذبہ عشق اسی طرح صحابہ کے جذبہ عشق کا اظہار اس واقعہ سے بھی ہوتا ہے کہ جب جنگ موتہ ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ز زید کو اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر فرمایا اور ہدایت کی کہ اگر زیدہ مارے جائیں تو حضرت جعفر کو ( جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے ) سپہ سالار مقرر کر لیا جائے اور اگر جعفر بھی مارے جائیں تو عبداللہ بن سرح کو سپہ سالار مقرر کر لیا جائے اور اگر وہ بھی صلی اللہ مارے جائیں تو پھر مسلمان جس کو چاہیں اپنا افسر مقرر کر لیں لے چنانچہ جس طرح رسول کریم اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا بعینہ ویسا ہی ہوا ۔ زید بھی شہید ہو گئے ، جعفر بھی شہید ہو گئے اور عبداللہ بن سرح بھی شہید ہو گئے ۔ آخر صحابہؓ نے حضرت خالد بن ولید کو اپنا افسر مقرر کیا اور وہ بغیر کسی مزید نقصان کے مسلمانوں کے لشکر کو واپس لانے میں کامیاب ہو گئے ۔ چونکہ اس جنگ میں علاوہ ان اسلامی جرنیلوں کے اور بھی بہت سے مسلمان شہید ہو گئے تھے اس