مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 207

مجموعه اشتہارات ۲۰۷ جلد اول ششم یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکتی اپنے سر پر قبول کرلے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔ ہفتم یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ ہشتم یہ کہ دین اور دین کی عزت اور ہمدردی اسلام کو اپنی جان اور اپنے مال اور اپنی عزت اور اپنی اولا داور اپنے ہر یک عزیز سے زیادہ تر عزیز سمجھے گا۔ نہم یہ کہ عام خلق اللہ کی ہمدردی میں محض اللہ مشغول رہے گا اور جہاں تک بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔ دہم یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض اللہ باقرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔ یہ وہ شرائط ہیں جو بیعت کرنے والوں کے لیے ضروری ہیں۔ جن کی تفصیل یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں نہیں لکھی گئی اور واضح رہے کہ اس دعوت بیعت کا حکم تخمین مدت دس ماہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا ہے، لیکن اس کی تاخیر اشاعت کی یہ وجہ ہوئی ہے کہ اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب و یا بس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے اور جو کچی اور سَرِيعُ التَّغَير اور مغلوب شک نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے ایک ایسی تقریب کی انتظار رہی کہ جو بچوں اور کچوں اور مخلصوں منافقوں میں فرق کر کے دکھلاوے ۔ سو اللہ جل شانہ نے اپنی کمال حکمت اور رحمت سے وہ تقریب بشیر احمد کی موت کو قرار دے دیا ہے اور خام خیالوں اور کچوں اور بدظنوں لے خدائے عزوجل نے جیسا کہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء واشتہار دسمبر ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے۔ اپنے لطف و کرم سے وعدہ دیا تھا کہ بشیر اول کی وفات کے بعد ایک دوسرا بشیر دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہوگا اور اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ وہ اولوا العزم ہوگا اور حسن واحسان میں تیرا نظیر ہوگا۔ وہ قادر ہے جس طور سے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔