سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 417
سنن ابن ماجه جلد اول عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِّرِ الْمَثَانِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِالنُّورِ السَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ 417 كتاب المساجد والجماعات 15: بَاب الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا باب مسجد سے دور (چل کر آنے والا اور اس سے دور ( چل کر آنے والا اجر کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے حضرت ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ 782: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا 782 وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذئب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن رسول الله ﷺ نے فرمایا مسجد سے دور ( چل کر بنِ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن سَعْدِ عَنْ آنے والا اور اس سے بھی دور ( چل کر آنے) والا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ اجر کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ أَجْرًا 783: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ :783 حضرت ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انصار عَبَّادِ الْمُهَلِّيُّ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ میں سے ایک شخص جس کا گھر مدینہ میں سب سے أَبِي عُثْمَانَ التَهْدِي عَنْ أَبي بْن كَعْب قَالَ دُور تھا۔اس کی کوئی نماز بھی رسول اللہ علے کے كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْت ساتھ ادا کرنے سے نہیں رہتی تھی۔مجھے اس کی حالت دیکھ کر دکھ ہوا اور میں نے کہا اے فلاں ! اگر تو ایک بِالْمَدِينَةِ وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ گدھا خرید لے جو تجھے تپش سے بچائے اور تجھے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَوَجَّعْتُ لَهُ (پتھروں کی ٹھوکر سے بچائے رکھے۔وہ تجھے زمین فَقُلْتُ يَا فَلَانُ لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا کے کیڑوں مکوڑوں سے بچائے۔اس آدمی نے يَقِيكَ الرَّمَضَ وَيَرْفَعُكَ مِنَ الْوَقَعِ وَيَقِيكَ جواب دیا خدا کی قسم مجھے تو یہ پسند نہیں کہ میرا گھر هَوَامُ الْأَرْضِ فَقَالَ وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنْ بَيْنِي محمد اللہ کے گھر کے قریب ہو۔انہوں نے کہا مجھ پر 782: تخریج : ابوداؤ دكتاب الصلاة باب ما جاء في فضل المشي الى الصلاة 556 783 تخريج : مسلم كتاب المساجد باب فضل كثرة الخطا الى المساجد ،1057، 1068، 1059، 1060 ابوداؤد کتاب الصلاة باب ما جاء في فضل المشي الى الصلاة 557