سنن ابن ماجہ (جلد اوّل)

Page 381 of 504

سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 381

سنن ابن ماجه جلد اول 381 كتاب الاذان والسنة فيها رَّسُولُ الله أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ حَى عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔نماز کی طرف آؤ۔نماز کی طرف آؤ۔کامیابی کی طرف آؤ۔کامیابی کی طرف آؤ۔کھڑی ہوگئی نماز۔کھڑی ہوگئی نماز۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔3:بَابِ السُّنَّةِ فِي الْأَذَانِ اذان کے بارے میں سنت کا بیان 710: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا 710 رسول اللہ ﷺ کے موذن حضرت سعد عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدِ بن عائد) سے روایت ہے کہ رسول اللہ اللہ 710 : اطراف : ابن ماجه كتاب الصلاة باب السنة في الأذان 711 تخريج: مسلم كتاب الصلاة باب سترة المصلى 769 ترمذى كتاب الصلاة باب ما جاء في ادخال الاصبع في الاذن عند الاذان 197 نسائى كتاب الزينة اتخاذ القباب الحمر 5378 ابوداؤد کتاب الصلاة باب فى المؤذن يستدير في ادائه 520 جا حضرت سعد بن عائذ القرظ قباء میں مؤذن تھے۔ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ قباء تشریف لائے تو حضرت بلال آپ کے ہمراہ نہ تھے۔حضرت سعد بن عائذ القرط نے اذان دی۔حضرت عمر بن خطاب کے زمانہ میں آپ نے انہیں مدینہ بلا لیا اور وہاں مسجد نبوی کا مؤذن مقرر کیا۔