سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 379
سنن ابن ماجه جلد اول مَنْ أَدْرَكَ أَبَا مَحْذُورَةَ عَلَى مَا أَخْبَرَنِي عَبْدُ مرد اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ 379 كتاب الاذان وا السنة فيها وَسَلَّمَ فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدِ عَامِل ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمَكَّةَ پھر جب میں اذان ختم کر چکا تو آپ نے مجھے بلایا فَأَذَلْتَ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُول الله اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی۔پھر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ذَلكَ آپ نے اپنا ہاتھ ابومحذورہ کی پیشانی پر رکھا۔پھر آپ نے اُن کے چہرے اور سینے پر ہاتھ پھیرا اور اسے پھیرتے ہوئے ان کے جگر تک لے گئے۔پھر رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ حضرت ابو محذورہ کی ناف تک پہنچ گیا۔پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تجھے برکت دے اور تجھ پر برکت ڈالے۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ مجھے مکہ میں اذان دینے پر مقرر فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں نے تمہیں مقرر کر دیا ہے۔پس مجھ میں رسول اللہ والے کے لئے جو نا پسندیدگی تھی جاتی رہی اور یہ ساری کی ساری رسول اللہ ﷺ کی محبت میں تبدیل ہو گئی۔پھر میں رسول اللہ ﷺ کے مکہ کے والی حضرت عتاب بن اسید کے پاس آیا۔میں نے رسول اللہ علیہ کے ارشاد کے مطابق ان کی معیت میں نماز کے لئے اذان دی۔709: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا :709 حضرت ابوئنڈ ورڈ نے بیان کیا کہ رسول اللہ الا اللہ عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ عَامِرٍ نے مجھے اذان سکھائی انہیں 19 کلمات اور اقامت الْأَحْوَلِ أَنَّ مَكْحُولًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ (سکھائی ) سترہ 1 کلمات۔اذان ( یہ ہے) الله أخبر 709 : اطراف : ابن ماجه كتاب الصلاة باب الترجيع في الاذان 708 تخريج: مسلم: كتاب الصلاة باب صفة الاذان 564 ترمذى كتاب الصلاة باب ما جاء الترجيع في الاذان 191، 192 نسائي كتاب الاذان باب باب خفض الصوت في الترجيع في الاذان 629 كم الاذان من كلمة 630 كيف الاذان 632،631 الاذان في السفر 633 الشويب فى اذان الفجر 647 آخر الاذان 652 ابو داؤدكتاب الصلاة باب كيف الاذان 500 ،501، 502 505-504-503