درثمین فارسی (جلد دوم) — Page i
فارق دشمین مع نقل صوتی ( ٹرانسلٹریشن) اردو تر جما در فرهنگ گرافر این بود بخدا سخت کا فرم جانم فردا شود بره دین مصطفی این استام دلا گر آید بمیرم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کی خصوصیات کے بارے میں حضرت میاں عبد الحق رامہ صاحب تحریر فرماتے ہیں: ا۔ آپ کے کلام میں ایک عجیب کشش پائی جاتی ہے۔ جو قاری کو خدا رسول اور پاکیزگی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس کا تجز ی ممکن نہیں۔ نہ اس کے ثبوت میں کوئی دلائل پیش کئے جا سکتے ہیں ویسے خاکسار کو یقین واثق ہے کہ جو شخص بھی اخلاص سے اس در شین کا مطالعہ کرے گا وہ ضرور اس کشش کے کو محسوس کرے گا۔ ۲۔ آپ نے اپنے کلام کو اپنے مشن یعنی احیائے اسلام کی تبلیغ تک محد دور کھا۔ کسی بادشاہ یا امیر کی مدح نہیں کی۔ اگر کسی کو سراہا تو محض اس کی دینی خدمات کے لئے اور بس ۔۔۔ دوسرے اساتذہ نے بینک حمد اور نعت تو بیان کی ہیں لیکن قرآن کریم کی طرف بہت کم بزرگوں نے توجہ کی ہے اس کے بالمقابل حضرت اقدس نے بار بار با تفصیل اس مقدس کتاب کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں۔ اور ہمیشہ پرزور الفاظ میں اس صحیفہ ، ہدایت پر عمل کرنے کی ترغیب دلاتے رہے۔ ۴۔ نعت میں بھی دوسرے اساتذہ آنحضرت ﷺ کی بنیادی خوبی اور برتری (یعنی آپ کا ذات باری تعالی سے والہانہ عشق اور آپ سے اللہ تعالی کی محبت ) کے ذکر کو عموماً نظر انداز کر گئے۔ اس بارے میں ان کے کلام میں کہیں کہیں اشارے تو ملتے ہیں لیکن بالاستیعاب اس اہم ترین خوبی کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ البتہ حضرت مسیح موعود نے اپنے منظوم کلام میں بھی اور منشور کلام میں بھی اس دو طرفہ محبت کا بار بار ذکر فرمایا ہے اور بڑے ہی لطیف پیرایوں میں فرمایا ۔۔۔ در همین فارسی مع نقل صوتی ( ٹرانسلٹریشن ) ، اُردو ترجمہ اور فرہنگ جلد دوم