صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 11 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 11

صحیح البخاری جلد ۸ || ۶۴ - کتاب المغازی غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتَبْ أَحَدٌ تَخَلَّفَ پیچھے رہ گیا تھا تو وہ اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى الله علیه وسلم قافلہ قریش کا قصد کرتے ہوئے نکلے تھے اور اس میں شامل نہ ہونے سے کسی کو ملامت بھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ عِيْرَ قُرَيْشٍ حَتَّى نہیں کی گئی تھی اور نوبت یہ ہوئی کہ اللہ نے جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی مٹھ بھیڑ کرا دی بغیر اس کے کہ پہلے سے لڑائی کی ٹھانی ہو۔غَيْرِ مِيْعَادٍ۔اطرافه ۲۷۵۷، ۲۹۴۷، ۲۹۴۸، ۲۹۴۹، ۲۹۵۰، ۳۰۸۸، ۳۵۵۶، ۳۸۸۹، ۴۴۱۸، ۴۶۷۳، ۴۶۷۶، -۷۲۲۵ ،۶۶۹۰ ،۶۲۵۵ ،۴۶۷۸ ،۴۶۷۷ یح : قصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ : غزوة بدر پہلی جنگ ہے جس میں قریش مکہ نے اپنی اس دھمکی کو پورا کرنا چاہا جس کا ذکر سابقہ باب میں گزر چکا ہے۔عنوانِ باب میں لفظ "باب" صحیح بخاری کے نسخوں میں سے سوائے نسخہ کریمہ کے اور کہیں مذکور نہیں۔سب نسخوں میں قِصَّةُ غَزْوَةِ بَدْرٍ" کے الفاظ بیان ہوئے ہیں۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۳۵۶) غزوہ بدر کے اسباب سے متعلق ایک بیان قیاسی ہے جو لفظ قصہ سے موسوم کیا جاتا ہے اور ایک بیان وہ ہے جو قرآن مجید میں ذکر کیا گیا ہے۔دونوں کے درمیان فرق کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اس غرض کے لئے قرآن مجید کے دو مقامات کی آیات کا ذکر کیا ہے۔پہلی آیات وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَ انْتُمْ اَذِلَّةٌ : فَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔۔۔۔(آل عمران: ۱۲۴ تا ۱۲۸) ہیں اور دوسرے مقام کی آیت وَ اذْ يَعِدُكُم اللهُ إِحْدَى الطَّابِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ۔۔۔(الانفال:۸) ہے۔ہر دو کا ترجمہ اوپر گزر چکا ہے۔مذکورہ بالا پہلے حوالہ سے غزوہ بدر کی اصل غرض ظاہر کی گئی ہے کہ کفار اپنے مقصد میں ناکام ہوں۔۲ حق کا فیصلہ ہو اور ظاہر ہو کہ سچائی کا دامن کون پکڑے ہوئے ہے۔سرغنہ کفر کی جڑ کاٹ دی جائے۔تامذہبی آزادی ہو اور بد امنی ختم ہو۔دوسرے حوالہ میں غزوہ بدر کے ظاہری اسباب کا ذکر کیا گیا ہے اور آیت وَ تَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ (الأنفال:۸) میں صحابہ کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ چاہتے تھے کہ شام سے آنے والے تجارتی قافلہ کی ناکہ بندی کریں۔ابو جہل کی دھمکی کے جواب میں حضرت سعد بن معاذ اسے متنبہ کر چکے تھے کہ اگر قریش کی طرف سے مدینہ پر چڑھائی کی گئی تو ان کے تجارتی قافلے سلامتی کے ساتھ نہیں گزر سکیں گے۔اس تعلق میں مندرجہ ذیل واقعات مد نظر رکھنے ضروری ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش مکہ کی فوج کشی کی افواہ پا کر حضرت عبد اللہ بن جحش کو آٹھ صحابہ کے ساتھ نخلہ کی طرف روانہ فرمایا اور یہ ہدایت کی کہ قریش مکہ کی نقل و حرکت کے بارہ میں صحیح معلومات حاصل کریں۔