صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 34
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَقَالَ ہمارے مقابل پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔عُمَرُ أَلَا نَقْتُلُ يَا نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْخَبِيْثَ اگر ہم مدینہ کو لوٹے تو جو معزز ہے وہ ذلیل کو لِعَبْدِ اللهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس سے ضرور نکال کر چھوڑے گا۔حضرت عمر وَسَلَّمَ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّهُ كَانَ نے یہ سن کر کہا: یانبی اللہ کیا ہم اس خبیث کو مار نہ ڈالیں یعنی عبد اللہ بن اُبی) کو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہیں لوگ باتیں نہ کریں کہ يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ۔اطرافه : ۴۹۰۵، ۴۹۰۷ محمد اپنے ساتھیوں کو مروا ڈالتا ہے۔٣٥١٩ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۵۱۹ ثابت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے، عبد اللہ عَبْدِ اللهِ بْن مُرَّةَ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔نے مسروق سے، مسروق نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ زُبَيْدِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ نیز سفیان سے مروی ہے۔انہوں نے زبید سے، عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ زُبيد نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے مسروق صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا سے، مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے۔حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ضَرَبَ الْحُدُوْدَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّة۔اطرافه ۱۲۹۴، ۱۲۹۷، ۱۲۹۸۔تشریح سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے جو گالوں کو پیٹے اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کی باتیں پکارے۔مَا يُنْهَى مِنْ دَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ : باب میں دو روایتیں ہیں جو بلحاظ مضمون ایک دوسری سے تعلق رکھتی ہیں۔روایت نمبر ۳۵۱۹ حرف عطف سے دوسندوں کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔دوسری سند جوڑ بید سے ہے ، کتاب الجنائز باب ۳۵ میں بھی اس سند سے یہ روایت گذر چکی ہے۔اس کا