صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 43
صحیح البخاری جلد 4 ۵۹ - كتاب بدء الخلق ۳۲۲۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۳۲۲۰ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔یونس نے الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: الله عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ عبید اللہ بن عبد اللہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ سکی تھے اور سب سے زیادہ سخاوت جو کرتے تو جِبْرِيلُ وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِ رمضان میں کرتے۔جبکہ جبرائیل آپ سے ملتے اور لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ فَإِنَّ جبرائیل رمضان کی ہر رات کو آپ سے ملا کرتے تھے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور آپ سے قرآن کا دور کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ عليه وسلم جب جبرائیل آپ سے ملاقات کرتے ، چلتی الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں بھی ہوتے۔اور مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ۔وَرَوَى عبدالله بن مبارک) سے روایت ہے کہ ہمیں معمر أَبُو هُرَيْرَةَ وَفَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے اس طرح بتایا۔اور حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فاطمہ رضی اللہ عنہمانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جبرائیل آپ سے قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ۔اطرافه: ٦، ١٩٠٢، ٣٥٥٤ ٤٩٩٧۔٣٢٢١: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَن ۳۲۲۱: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ليث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب أَخَرَ الْعَصْرَ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ سے روایت کی کہ عمر بن عبد العزیز نے عصر کی نماز میں أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ کچھ دیر کی تو عروہ بن زبیر ) نے ان سے کہا: ( آپ